Skip to playerSkip to main content
  • 8 months ago
And Heart-Touching Stories Of Hazrat umar ka waqia Most Emotional and Narrated By Peer Ajmal Raza Qadri. This Inspiring Bayan Highlights The Powerful Life Lessons, Struggles, And Miracles Of The Prophets, Helping Us Strengthen Our Iman And Connection With Allah (SWT).

#islamnoor25​
#peerajmalrazaqadri​
#muhammadajmalrazaqadriemotionalbayan​
#ajmalrazaqadri​
#hazratumarefarooq​
#hazratumar​
#hazrat​

Top Searches,
Hazrat umar ka waqia,
hazrat Umar ki shan,
Very emotional bayan,
Peer ajmal raza qadari new bayan,
Nabiyon k qissay Peer Ajmal Raza Qadri,
Islamic history of prophets,
Life lessons from the prophets,
Anbiya k waqiat bayan,
Quranic stories of prophets,
Prophets miracles in Islam,
Islamic motivational bayan,
Stories of Anbiya in Islam,

🔹 SPECIAL THANKS:
A Heartfelt Thanks To Our Islam Noor 25 Official Community For Your Continuous Support And Love. May Allah (SWT) Guide Us All Towards The Path Of Righteousness.
Transcript
00:00:00موسیقی
00:00:30اسلامی فلاہی ریاست کے اندر بڑا فائدہ دے گا
00:00:32فرماتے ہیں جہاد ہو رہا تھا تو علاقہ ریتلا تھا
00:00:36غبار زیادہ تھی ریت زیادہ تھا
00:00:39اب فرماتے ہیں لڑتے لڑتے شام ہو گئی
00:00:41شام کے وقت بادشاہ قتل ہوا
00:00:43بادشاہ کا سر تو ملا پر اس کا تاج کوئی نہ ملا
00:00:46اب سے اباں ڈوڑنے لگے ریتو ٹھوٹولنے لگے
00:00:50توڑی سے جد و جہد کی تو حرساد بن ابی وقاس کانے لگے
00:00:52یار رات ہو گئی ہے چھوڑو نہیں ملتا تو رہنے دو
00:00:54سو جاؤ اپنے خیموں میں جا کے
00:00:57اللہ نے خطا دے دی ہے یہی ہمارے لیے بہت کافی ہے
00:01:00چھوڑو شہادت ہے مطلوب مقصود مومن
00:01:03مال غریبت نہ کشور کشائی
00:01:04وہ تو کہا تھا چھوڑو مل گیا تو ٹھیک ہے
00:01:06نہیں ملتا تو رہنے دو
00:01:07چھوڑ دیا
00:01:09کہتے ہیں سب لوگ اپنے خیموں میں چلے گئے
00:01:12سپاہ صلاح غلصات بن ابی وقاس رضی اللہ عنہ
00:01:14وہ فرماتے ہیں میں بھی اپنے خیمے میں
00:01:16ابھی میں بیٹھا تھا
00:01:17کمر جو تھی وہ میں نے لگائی تھی
00:01:20زمین کے ساتھ لیٹا ہی تھا
00:01:22کہ میں نے خیمے کے باہر
00:01:24کسی مجاہن دیا کہ صدا دی حضور اجازت
00:01:26ہو تو اندر آ جاؤں گا
00:01:27میں نے کہا جاؤں گا
00:01:29تو کہتے ہیں ایک شخص آیا
00:01:30اس نے چادر کے اندر اپنا چرہ چھپایا ہوا ہے
00:01:32پھٹے پرانے
00:01:34پوسیدہ سے کپڑے
00:01:35ٹوٹے ہوئے جوتے رسیوں سے باندے ہوئے
00:01:38آ کے کھڑا ہوا
00:01:39اور چادر کے نیچے سے
00:01:42چادر کے نیچے سے اس نے وہ تاج نکالا
00:01:44اس کی چمک دمک
00:01:47ہیرو کی اتنی زیادہ
00:01:48کہ پورے خیمے میں روشنی پھیل گئی
00:01:50اور میرے پاس تاج رہا
00:01:52کہنے لگا حضور میں گزر رہا تھا
00:01:53تو میرے گھوڑے کے پیر سے کچھ چیز ٹکرائی ہے
00:01:55میں نے کھو دی ہے
00:01:56تاج نکلایا ہے
00:01:57رکھ لیں
00:01:58اور فرماتے ہیں
00:01:59رات کے اندھیرے میں اکیلے اسے ملا
00:02:01دیکھنے والا بھی کوئی نہیں تھا
00:02:03اور بندے کی حسید بتاتی ہے کہ غریب ہے
00:02:05پھر بھی میں نے پوچھا
00:02:07میں نے کہا
00:02:08تم تو مجھے بڑے غریب آدمی لگتے ہو
00:02:11تمہیں تو بڑی ضرورت تھی
00:02:13کیا امیر ہو
00:02:15کیا تمہارے علاق کس طرح کے
00:02:17تو کہتے ہیں مجھے کہنے لگا
00:02:18حضور بارہ مچوں کا باپ ہو
00:02:20اور جب جہاد کے لیے آیا تھا
00:02:22تو بھر میں صبح کا کھانا تھا
00:02:23دوپیر کا کوئی نہیں تھا
00:02:24مجھ حکم ہوا جہاد کی
00:02:26فرض ہونے کا تو نکل آیا ہو
00:02:28کچھ سرکہ کچھ تھوڑا سا سامان
00:02:30ان کے لیے چھوڑ کے آیا ہو
00:02:31اللہ کریم ان کی مدد کرے گا
00:02:34تو فرماتے ہیں میں رشت آیا
00:02:35اسے رشت
00:02:37تو میں نے کہا جناب
00:02:38یہ تم نے رکھا کیوں نہیں
00:02:40کہنے لگے وہ میری طرف دیکھ کے
00:02:41کہنے لگے حضور کیوں رکھوں
00:02:43کیوں رکھوں
00:02:44مجھے اس کی کیا ضرورت ہے
00:02:45مجھے میرا غاب کھلانے والا ہے
00:02:47میرا غاب دینے والا ہے
00:02:48یہ ضرورت ہی نہیں
00:02:49میں کیوں رکھوں
00:02:50دامانِ توقل
00:02:51کہ یہ خوبی ہے
00:02:52کہ اس پر
00:02:52پیوند لگے ہوتے ہیں
00:02:54دھبے نہیں ہوتے
00:02:55فرماتے ہیں وہ دیکھ کے پلٹ گئے
00:02:57ابھی وہ خیمے سے نکلنے لگے تھے
00:02:59میں نے پیچھے سے آواز دی
00:03:00میں نے کہا یار اپنا نام تو بتا
00:03:02اپنا قبیلہ تو بتا
00:03:04اپنے والد کا نام تو بتا
00:03:06تو اتنا بڑا شخص ہے
00:03:07بتا تو صحیح
00:03:08تو فرماتے ہیں انہوں نے روخ نہیں پھیرا
00:03:10پلٹ کے میری طرف نہیں دیکھا
00:03:12چیرابوار کی جانی
00:03:13اور کھڑے کھڑے کھانے لگے
00:03:15حضرت سعید بن ابی وقعہ سے
00:03:16حضور
00:03:16میں نے یہ کام آپ کے لئے نہیں کیا
00:03:18یہ کام میں نے لوگوں کو
00:03:20اپنا اپنے باپ کا
00:03:21اور قبیلے کا نام معروف کرانے کے لئے نہیں کیا
00:03:23میں نے یہ کام
00:03:25رب اور اس کے رسول کے لئے کیا ہے
00:03:27اور جس رب رسول کے لئے کیا ہے
00:03:29وہ میرا نام بھی جانتے ہیں
00:03:30میرے باپ کا نام بھی جانتے ہیں
00:03:31میرا قبیلہ بھی جانتے ہیں
00:03:33حضرت سعید بن ابی وقعہ
00:03:34رضی اللہ تعالیٰ انہوں کا نا اپنی ماں سے بڑا پیار تھا
00:03:37بڑا پیار تھا اپنی والدہ سے
00:03:38حضرت سعید بن نبی وقاس کلمہ پڑ گئے
00:03:40اممہ جنہیں بھو کرتال کرتی
00:03:42اسے پتہ تھا کہ میرا پتر مجھ سے پیار بڑا کرتا ہے
00:03:44میں نے دل آخر منوال ہے
00:03:46تھوڑی سی عبادی تھی
00:03:47ایک گھر کے اندر جو مسئلہ چھڑتا تھا نا
00:03:50اس کا سارے شہر کو پتہ چل جاتا تھا
00:03:52اب کونوں میں گلیوں میں
00:03:53اب باتیں بھی ہونے لگیں
00:03:54کہ وہ سعید کی ماں اٹھال بھی بیٹھی ہوئی ہے
00:03:56بڑا مسئلہ ہے
00:03:57اب پریشر بڑھنے لگا
00:03:58اگر سعید بن نبی وقاس فرماتے ہیں
00:03:59کہ وہ جو میرے قریبی لوگ تھے نا صحابہ
00:04:01وہ بھی مجھے کہنے لگے
00:04:02یار کوئی رستہ نکال
00:04:03ہر چوک میں تیری بات ہوتی
00:04:05کہتے ہیں میں گھر جاتا
00:04:06تو گھر والے بہن بھائی بچے باپ
00:04:08سارے کہتے ہیں
00:04:09یار تیری ماں مار جائے گیا
00:04:10بہت بڑا ایشو ہے
00:04:11ہم یہ کہہ دیتے ہیں
00:04:12کہ انہوں نے قربانیاں بڑی دی
00:04:13لیکن آپ ذرا بات کو سمجھیں نا
00:04:15کہ اممہ بھوکڑ تال پہ بیٹھ جائے
00:04:17ایک انسان کہاں کھڑا ہو جائے گا
00:04:19بزنامی الگ ہے
00:04:20بیس الگ ہے
00:04:20سیانہ بندہ
00:04:21مالدار بزادار
00:04:22قبیلے والا
00:04:23حضرت سعید بن نبی وقاس کی ماں
00:04:25نے تین دن تک
00:04:26روکی نہیں کھائی پانی نہیں پیا
00:04:28بے ہوش ہو گئی
00:04:29اب جب بے ہوش ہو گئی
00:04:30تو شور پڑا
00:04:31سارا محلہ جمع ہو گیا
00:04:32اب سارے لوگ کھڑے
00:04:33اور بچہ وہ ہے
00:04:34جو ماں کی بڑی ماننے والا ہے
00:04:36اممہ کے اوپر لوگوں نے
00:04:37پانیشہ نہیں ڈالا ہو
00:04:38شاہی تو حضرت سعید بن نبی وقاس
00:04:39قریب آئے کانے لگیا
00:04:40اممہ ایک بات کرنی ہے
00:04:41اممہ بھی بڑی موسکر
00:04:42سوٹھ کے بیٹھ گئی
00:04:43کہ پتر ماننے لگا میرا
00:04:44لوگ بھی کھڑے ہو گئے
00:04:46موسکرہ ہٹ بھی ہونے لگی
00:04:47کہ لوگوں نہ کوئی بات ہونے لگی
00:04:48یا ماں کہتی ہے کلمہ
00:04:49چھوڑ دیں پھر مانوں گی
00:04:50حضرت سعید بن نبی وقاس
00:04:52کہنے لگے
00:04:52اممہ سن میری بات
00:04:53تین دن ہو گئے
00:04:55مکہ کا کوئی کونہ کھدرا
00:04:57ایسا نہیں
00:04:57جس میں میری تیری باتیں نہ ہوئی ہیں
00:04:59اور قبیلے کا علاقے کا
00:05:01تو شخص نہیں
00:05:01لوگوں نے بڑی باتیں کی
00:05:03اور لوگ جب باتیں کرنے پہ آتے ہیں
00:05:04پھر اوپر تک جاتے ہیں
00:05:05یہ بھی کہا
00:05:06کہ دین یہ سکھاتا ہے
00:05:07کہ ماں بھوکی مر جائے
00:05:08یہ بھی لوگوں نے کہا
00:05:10میں نے ہر شہ سنی برداشت کی
00:05:12اممہ اب تو میری بات کان کھل
00:05:14کہ سن لے ماں کہنے لگی وہ کیا
00:05:16قضرت سعید کہنے لگے
00:05:17پیدا مجھے تُو نے کیا ہے
00:05:18نو ماں تیرے پیٹ میرا
00:05:19روٹی تیرے آج سے کھائیے
00:05:21تجھ سے زیادہ بہتر
00:05:22مجھے کوئی نہیں جانتا
00:05:23ماں سن
00:05:24تیری کتنی جانے
00:05:25اممہ کہنے لگی ایک
00:05:27تو حضرت سعید فرمانے لگے
00:05:29تیری ایک ہزار جانبی ہونا
00:05:30تو ایک کے کر کے ساری نکل جائے
00:05:32تو میں محمد یعربی کا کلمہ
00:05:33پھر بھی نہیں چھوڑوں گا
00:05:34ختم ہو گئی بات
00:05:36یہ کیا بات
00:05:37روک اچھا رنگلہ لاری والا
00:05:39جڑا چڑھ دا تے لیں دا رہی دا
00:05:41اے عشق تیرے دا رنگ
00:05:43محمد جتو چڑھ جائے
00:05:44پھر نہیں لیندہ
00:05:45یہ کیا بات
00:05:46یہ ممہ تیری ایک ہزار جانبی ہو
00:05:48روٹی کھانی ہے تو کھا
00:05:50نہیں کھانی تو نہ کھا
00:05:52یہ لفظ کہتے ہیں
00:05:53حضرت صاحب بھی نبی وقع سے رو پڑے
00:05:54آنسو آ گئے
00:05:56لفظ کہہ کے باہر نکلے
00:05:58مجمع چھٹ گیا
00:05:59جس نے جو مطلب لینا تھا لیا
00:06:01جس نے جو کہنا تھا
00:06:02اس نے کہا
00:06:03حضرت صاحب چلے گئے
00:06:05شام کو گھار آئے تو
00:06:06ہمارا روٹی کھا رہی تھی
00:06:06تو حضرت صاحب فرماتے ہیں
00:06:08کہ محلے کی بیبینیں کہنے لگی
00:06:09روٹی کیوں کھا رہی ہو
00:06:10تو ماغو پڑی کھانی لگی
00:06:11پتر میرا ہے
00:06:12میں نے پیدا کیا ہے
00:06:14میرے پتر نے کبھی زید نہیں کی
00:06:16اس کے دل میں کوئی شائع اتر گئی ہے
00:06:18کوئی ہے
00:06:19کچھا پکا جذبہ ہوتا
00:06:21تو میں تو دو آسو بہاتی تھی
00:06:22تو میرا پتر لوٹ آتا تھا
00:06:24پر کسی رستے کا مسافر بن گیا ہے
00:06:26اب کہیں پہنچ گیا ہے
00:06:27اور میں اس کا درد سمجھ گئی ہوں
00:06:29جہاں گیا ہے
00:06:30اب وہاں سے یہ لوٹ سکتا
00:06:32آپ سمجھیں
00:06:33اتنا تگڑا ایمان
00:06:34جن لوگوں کا ان کے بہرے میں
00:06:35لوڈ ڈسکس کریں گے
00:06:36ان کو نا قرآن پاک نے
00:06:37بطور نمونہ بیان کی ہے
00:06:39اللہ فرماتا ہے
00:06:39ایمان اس طرح کا
00:06:40جس طرح میرے نبی کے صحابہ کا
00:06:42یہ منافقوں کی بات ہو رہی ہے
00:06:43پہلے سے بارے میں
00:06:44جب ان سے کہا جائے
00:06:48کہ ایمان اس طرح لاؤ
00:06:49جس طرح میرے نبی کے صحابہ لائیں
00:06:50تو وہ کہتے ہیں
00:06:54اس طرح ایمان لائیں جیسے بے وکوف لائیں
00:06:56یہ تو بے وکوف ہیں
00:06:57عرش ہے نبی پاک پہ قرآن کر رہے ہیں
00:06:58تو اللہ فرماتے ہیں
00:06:59خبردار ہو جاؤ
00:07:02میرے نبی پاک کے غلاموں کو
00:07:04بے وکوف کہنے والا
00:07:05تم بے وکوف ہو
00:07:06اللہ کہتا ہے
00:07:07تم پاگل ہو بے وکوف ہو
00:07:09اللہ انہیں پاگل کہتا ہے
00:07:10اللہ پاگل کہتا ہے
00:07:11انہیں جو نبی پاک کے صحابہ کو پاگل گئے
00:07:13اور حضرت عمر جیسا بندہ
00:07:14چوبیس لاکھ مربع میل کا حکمران
00:07:17اور شاہ روم کو خط لکھ کے کہتا ہے
00:07:20میں منت نہیں کرتا
00:07:21میں حکم دیتا ہوں
00:07:22نہ تغڑا بندہ
00:07:24جنگ قادسیہ کے لئے
00:07:25حضرت صاحب بن نبی بقاظ کو بے جا
00:07:27فتو بھوش شام پڑھ کے دیکھیں
00:07:28حضرت عمر بڑے پریشان ہے
00:07:29اتنے دن ہو گئے
00:07:31کوئی ریپورٹ ہی نہیں آیا
00:07:32آپ تو موبائل ہے نا
00:07:34ایک منٹ کی ریپورٹ لیں آپ
00:07:35بلکہ آپ
00:07:36ایک منٹ کی فوٹو لیں آپ
00:07:38ریپورٹ تو دور رہ گئی
00:07:39حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی
00:07:41بڑے پریشان ہے
00:07:42کہ قادسیہ میں
00:07:43حضرت صاحب بن نبی بقاظ کے ساتھ
00:07:44لوگ جہاد کرنے گئے
00:07:45ریپورٹ کوئی نہیں آ رہی
00:07:46اتنے پریشانتے
00:07:48کہ باہر نکل کے
00:07:48اس رستے میں مہت جاتے
00:07:50جو رستہ قادسیہ کے طرف سے آتا تھا
00:07:53جو بھی آتا جاتا
00:07:54پوچھتے جنگ کے کیا حالات ہیں
00:07:55ادھر جب اللہ نے فتح دے دی
00:07:57تو حضرت صاحب بن نبی بقاظ
00:07:58رضی اللہ تعالی
00:07:59ایک قاسر کو خات دے کے بے جا
00:08:01کہنے لگے عمر کے پاس جاؤ
00:08:12کہ کئی دور دور سے
00:08:14سے آباد جو دوسرے شہروں کے
00:08:15ملکوں کے رہنے والے ہوتے تھے
00:08:16وہ بھی آتے شامل ہو جاتے تھے جہاد میں
00:08:18کوئی ایک دفعہ مدینہ آیا
00:08:20کوئی دو دفعہ آیا
00:08:21پھر اپنے اپنے علاقوں میں
00:08:22بہت سارے لوگوں نے
00:08:23زیادہ دفعہ حضرت عمر کو دیکھا بھی نہیں تھا
00:08:26وہ جو قاسر خات لے کے آیا تھا نا
00:08:28اس نے ایک دفعہ دیکھا تھا
00:08:29حضرت عمر بڑے ہو گئے
00:08:30وہ پہچانتا نہیں تھا
00:08:32ادھر سے وہ خات لے کے آگیا
00:08:33حضرت عمر مدینہ سے باہر نکل کے
00:08:35اس رور پہ بیٹھے تھے
00:08:36جو قادسیہ کے آتا تھا
00:08:38جب وہ اس آدمی کو آتے دیکھا
00:08:40تو حضرت عمر اٹھ کے کھڑے ہو گئے
00:08:41فرمانے لگے قادسیہ سے آ رہے ہو
00:08:42وہ کیا کہتا ہے
00:08:44پٹے پرانے کپڑے
00:08:45ٹوٹے اُڑے جوتے
00:08:47سر پہ پرانی پگڑی
00:08:48کہنے لگے غلام
00:08:49مدینہ کے رہنے والے ہوں
00:08:52حضرت عمر کہنے لگے
00:08:53ہاں مدینہ کا ہوں
00:08:54کہاں میں کارسیہ سے آیا ہوں
00:08:56الحمدللہ اللہ نے اسلام کو بتا دے دی ہے
00:08:58الحمدللہ کفر کی کمر ٹوٹ گئی ہے
00:09:01اس نے یہ بات کر کے
00:09:02تو گھوڑے کو ایڈی لگائی
00:09:03گھوڑا دوڑنے لگا
00:09:04مدینہ کے
00:09:05حضرت عمر بھی ساتھ ساتھ دوڑ رہے ہیں
00:09:07فرمانے لگے اچھا بتاؤ
00:09:08خالد بن ولید کا کیا حال ہے
00:09:10تھوڑا آگے جا کے فرمانے لگے
00:09:11اسامہ بن زید کیسے
00:09:13وہ کہتا ہے ٹھیک ہے
00:09:14پھر اس نے اور بھڑا
00:09:15عمر ساتھ کار دوڑ رہا ہے
00:09:16ساتھ کار
00:09:17چوبیس لاکھ پر اپن میل کا عمران
00:09:19ایک جوتا پیر سے نکل گیا
00:09:22عمر دوڑ رہے ہیں
00:09:23آگے جا کے پوچھتے ہیں
00:09:25ساتھ دن ابی وقاس کا کیا حال ہے
00:09:26کہ حضور وہ بھی ٹھیک ہے
00:09:28کتنے لوگ میرے شہیر ہو گئے
00:09:30مسلمانوں میں سے
00:09:31کہنے لگا
00:09:31صحیح جنتی کا نہیں پتا
00:09:33یہ لفظہ دا ہوتے ہوتے
00:09:35مدینے کی سرہب آگئی
00:09:36لوگوں نے عمر کو
00:09:38گھوڑے کے ساتھ دوڑتے دیکھا
00:09:39تو کہا امیر المومنین
00:09:40کیوں دوڑ رہے ہیں
00:09:41وہ غلام چھلانگ لگا کے
00:09:43نیچی آیا
00:09:44قطبہ میں بیٹھ گیا
00:09:45کہنے لگا
00:09:46حضور آپ نے بتایا
00:09:47یا نہیں آپ امیر المومنین ہیں
00:09:48آپ فرمانے لگے
00:09:49کیا بتاتا
00:09:50میں تو ہور چلانے والے کا پتر ہوں
00:09:52کیا بتاتا
00:09:54وہ عمر ہوں
00:09:55جس نے اپنے گناہوں کا
00:09:56عساب دینا ہے
00:09:57کیا بتاتا
00:09:58جو ساتھ بن ابی وقانس کو
00:10:00جہاد میں بیٹھ گئے
00:10:01خوز بزدلوں کی طرح
00:10:01گھر میں بیٹھا ہے
00:10:02کیا بتاتا
00:10:04کوئی حیثیت نہیں
00:10:05کوئی طاب
00:10:05تو نے اچھا کیا
00:10:06تو تو مجاہت تھا
00:10:07مجھے ساتھ ساتھ دڑایا
00:10:08تو نے اچھا کیا
00:10:09جتنے لوگ تھے
00:10:10چیخیں مار کے رونے لگے
00:10:12حضرت فاروق عظم سے
00:10:13کہنے لگے عمر
00:10:14جب تک تیرے جلوے رہیں گے
00:10:16اللہ کامیابیاں ہی عطا فرمائے گا
00:10:17جب تک تیرا رنگ رہے گا
00:10:19اللہ تعالی نوازتا ہی رہے گا
00:10:21کچھ نہیں کبھی
00:10:22اپنا آپ ظاہر ہی نہیں کیا
00:10:23بہت بڑے تھے
00:10:24بہت بڑے تھے حضرت عمر
00:10:26بڑے تھے
00:10:27حضرت ابو رافع
00:10:28غلام تھے
00:10:29قرآن پاک بڑا سونا پڑتے تھے
00:10:31حضرت عمر جب بھی انہیں ملتے ہیں
00:10:33کہتے ہیں
00:10:33ابو رافع تو عمر سے اچھا ہے
00:10:35قرآن بڑا شاندار پڑتا ہے
00:10:37تو وہ کہتے ہیں
00:10:38حضرت عمر اگر میں قرآن صحیح پڑتا ہوں
00:10:39تو آپ کو قرآن کی تشریح زیادہ صحیح آتی ہے
00:10:41آپ بھی تو مجھ سے افضل ہیں
00:10:43تو آپ فرماتے ہیں
00:10:43نہیں پھر بھی تو مجھ سے افضل ہے
00:10:45کیوں
00:10:45اس لیے
00:10:46کہ تو اپنے آقا کی نوکری بھی ٹھیک کرتا ہے
00:10:49اور آپ کی عبادت بھی ٹھیک کرتا ہے
00:10:51اور مجھے خالی صرف عبادت کرنی ہوتی ہے
00:10:53وہ بھی ٹھیک نہیں کر پا
00:10:54ساری زندگی اپنا معاصبہ
00:10:56ساری زندگی اپنے گریبان میں دیکھا
00:10:59ساری زندگی اپنے آپ کو پرکھا
00:11:01اپنے آپ کو ٹٹولا
00:11:03بس سٹھ سال عمر بیٹھ گئی
00:11:05حضرت عزفہ بن یمان ایک صحابی تھے
00:11:11میرے نبی کریم علیہ السلام نہ
00:11:12ان سے راز کی باتیں کرتے تھے
00:11:14ہر بندے کا عزمہ ٹھیک نہیں ہوتا
00:11:15سب سے راز کی بات نہیں کرنی چاہیے
00:11:17حضرت عزفہ بن یمان کہتے ہیں
00:11:19حضور راز کی باتیں بتاتے ہیں
00:11:21مدینہ منورہ میں جو منافقین تھے
00:11:23ان کی لسٹ بھی نبی پاک نے حضرت عزفہ بن یمان کو دی تھی
00:11:26جب کوئی مشکوک آدمی مر جاتا نہ
00:11:28تو صحابہ کہتے ہیں
00:11:30ہم دیکھتے ہیں اگر حضرت عزفہ نے جنازہ پڑھا
00:11:32تو ہم بھی جنازہ پڑھ لیتے ہیں
00:11:34نبی پاک نے بھی کچھ جنازہ نہیں پڑھے
00:11:36ترمیزی میں ہے فرمایا عثمان سے جو بغد رکھے
00:11:38اس کا جنازہ نہیں پڑھے گئے
00:11:39حضرت عزفہ بن یمان اگر جنازہ پڑھتے
00:11:43تو لوگ پڑھتے گو نہ پڑھتے
00:11:44تو لوگ جنازہ نہ پڑھتے
00:11:46حضرت عزفہ بن یمان کہتے ہیں
00:11:47جناب عمر فاروق کی خلافت کے آخری اجام
00:11:50دیکھوں دنوں کے بعد وہ شہید ہو گئے
00:11:51فرماتے ہیں آدھی رات کا وقت تھا
00:11:54میں گھر میں سویا تھا بڑا بے فکر
00:11:56اچانک میرے دروازے پر دستک ہوئی
00:11:59میں گھبرا کے اٹھا
00:12:00اتنی رات پر کون آیا
00:12:01کہتے ہیں قربان جاؤں دروازے پہ گیا
00:12:04تو امیر المومنین فاروق اعظم دروازے پہ
00:12:06میں نے کہا عمر کوئی حکم تھا
00:12:09تو مجھے بلا لیتے
00:12:09کہنے لگے میں نہ امیر بن کے نہیں آیا
00:12:11تیرا ویر بن کے آیا ہو
00:12:13امیر المومنین کی حیثیت سے
00:12:15سرکاری کام سے بلاتا
00:12:16تو وہاں بلاتا
00:12:17مجھے ایک ذاتی کام پڑ گیا
00:12:18کہتے ہیں میں نے عمر کو گھر کی
00:12:20اندر بلا کے چار پائی پہ بٹھایا
00:12:21میں نے کہا حضور میں غریب آدمی
00:12:22میں کیا آپ کے کام آسکتا ہوں
00:12:24تو کہتے ہیں انہوں نے نہ
00:12:25مجھے ساتھ بٹھا لیا
00:12:26پھر میرا ہاتھ پکڑ لیا
00:12:28کہنے لگے تو عمر کو جانتا ہے
00:12:30عمر جھوٹ نہیں بولتا
00:12:31تو جانتا ہے
00:12:32عمر وادوں کا پکا ہے
00:12:34کہا حضور جانتا ہوں
00:12:35کہا میں اس وقت آیا ہوں
00:12:36جب دیکھ بھی کوئی نہیں رہا
00:12:37حضرت اضافہ بن یمان کہتے ہیں
00:12:39پریشان ہو گیا
00:12:40حضرت پہ لیا
00:12:41نہ مجھوائے مہربانی کر
00:12:42بتائے کدھر آئے ہیں
00:12:43حضرت امرے فاروق فرمانے لگے
00:12:46با سٹھ سال کا ہو گیا ہوں
00:12:47تری سٹھ مچہ لگا ہے
00:12:49داڑھی سفید ہو گئی ہے
00:12:51حال پک گیا
00:12:52اور فریدہ سفیہ
00:12:54داڑھی آگیا ہی پور
00:12:55اگہ نیڑے آگیا ہی
00:12:57پچھا رہ گیا ہی دور
00:12:58اپنا
00:12:59اب قبر اشر کا
00:13:02معاملہ ساپ نظر آنے لگا ہے
00:13:04کہا حضور مجھ سے کیا چاہتے ہیں
00:13:06حضرت امر رو پڑے
00:13:08کہنے لگے
00:13:09آج میں عشاء کے بعد نکلا ہوں
00:13:11تو نبی پاک کے صحابہ
00:13:12مجھے نیک کہہ رہے تھے
00:13:13پھر میں نے بچوں کی ماں سے
00:13:15اور بچوں سے بھی پوچھا ہے
00:13:16وہ بھی مجھ سے راضی ہیں
00:13:17پر اضافہ
00:13:19تیرے ساتھ نبی پاک راز کی باتیں کرتے تھے
00:13:22سچ بتا
00:13:23کہیں عمر کا نام
00:13:24منافقوں میں شامل تو نہیں
00:13:25سچ بتا
00:13:27ان منافقین میں تو شامل نہیں
00:13:29کہ اوپر اوپر سے تو نہیں سارا کچھ
00:13:30حضرت اضافہ بن یمان کہتے ہیں
00:13:32میں باپ کے مرمے پیزنا نہیں رویا
00:13:34جتنا عمر کے سوال پر رویا
00:13:35میں قدموں میں بیٹھ گیا
00:13:37میں نے کہا نہیں
00:13:38عمر یہ تو میں نے نہیں سنا
00:13:40لیکن یہ میں نے نبی پاک سے ضرور سنا ہے
00:13:43کہ میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا
00:13:44تو عمر ابن خطاب ہوتا
00:13:46یہ میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے
00:13:48کہ عمر بس گلی سے گزرے شیطان رستہ بڑھل جاتا
00:13:50کہ نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا
00:13:52کہ جبریل امین
00:13:53ساڑھے نو سو سال
00:13:56میرے عمر کی شان بیان کریں
00:13:58تو عمر کی شان ختم نہیں ہوتی
00:13:59ساڑھے نو سو سال
00:14:02اگر حضرت جبریل بھی بیان کریں
00:14:03تو یہ مقام ہے سیدنا فاروق اعظم کا
00:14:06اللہ تبارک و تعالی نے
00:14:08جس طرح سارے نبیوں میں
00:14:11شان خضور کو عطا فرمائی
00:14:12اسی طرح تمام نبیوں کے
00:14:15ہواریوں میں سب سے زیادہ شان خضور
00:14:17کے غلاموں کو عطا فرمائی
00:14:18قرآن مجید میں اللہ کریم نے فرمایا
00:14:21فرمایا
00:14:26اے ایمان والو خود بھی جہنم کی
00:14:29آگ سے بچو اور اپنے گھر والوں
00:14:31کو بھی دوزت کی آگ سے بچاؤ
00:14:33حضرت عمر فاروق نے جب یہ آیت
00:14:35نازم ہوئی تو فوراً ارز کیا
00:14:36یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
00:14:39اس کا کیا مطلب ہے کہ خود بھی دوزت کی آگ سے
00:14:41بچو اور اپنے گھر والوں کو بھی بچاؤ
00:14:43تو نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا
00:14:44عمر اس کا مطلب یہ ہے کہ جن چیزوں
00:14:46کا اللہ رسول تمہیں حکم دیتے ہیں
00:14:48تم اپنے گھر والوں کو ان چیزوں کا حکم دو
00:14:51اور جن چیزوں سے اللہ رسول
00:14:53تمہیں منع کرتے ہیں تم اپنے گھر والوں
00:14:55کو بھی ان چیزوں سے منع کرو
00:14:57حضرت عمر فاروق کی زندگی میں
00:14:59جو چیز آپ کو بہت زیادہ ملے گی
00:15:01وہ یہ ہے کہ آپ نے جتنا
00:15:03کڑا احتساب
00:15:05محاسبہ باہر والوں کا کیا ہے
00:15:07اس سے زیادہ بڑھ کے اپنا
00:15:09اور اپنے گھر والوں کا کیا ہے
00:15:11یہ بڑا جی معاملہ ہے
00:15:13کہ ہم جتنے
00:15:15لوگ ہیں ہمارا میار یہ ہے کہ سامنے
00:15:17والا غلط ہے اور میں
00:15:18یعنی دوسرے کا بچہ گلی میں نظر آگئے
00:15:21تو اس کی غلطیاں نکلنی شروع ہو جائیں
00:15:22اور میرا بچہ سارا شہر
00:15:25گھوم آئے
00:15:26ایک تائر پر موٹر سائیکل کریں
00:15:28تو ہم کہتے ہیں کہ ابھی بچہ ہے
00:15:30انشاءاللہ سیانہ ہو جائے گا
00:15:33اگر اب جی آج تک سیانے نہیں ہوئے
00:15:35کس کو سمجھا لیں
00:15:36پھر بیٹے کا سیانہ ہونا تو
00:15:38ہو سکتا ہے کہ وہ
00:15:39ساتھ ساتھ سال لگی جائیں
00:15:41گھر کے اندر جب تک توجہ نہیں ہوتی
00:15:44اور سب سے پہلے جب تک اپنی ذات پر
00:15:46توجہ نہیں ہوتی میں کہا کرتا ہوں
00:15:48کہ باہر لیکچر چلتا ہے
00:15:50گھر میں عمل چلتا ہے
00:15:51لیکچر باہر چلتا ہے
00:15:54گھر کے اندر عمل چلے گا
00:15:56باہر تو آپ نے کہہ دیا نماز پڑھا کرو
00:15:58ختم ہو گئی بات
00:15:59لیکن گھر میں بچے نماز تب پڑھیں گے
00:16:01جب ان کے والد نماز پڑھیں گے
00:16:04گھر میں کہہ دیا پڑھا کرو
00:16:05پر گھر میں بچنا پڑھا تب کریں گی
00:16:07جب ان کی امہ پڑھا کرے گی
00:16:09گھر کے اندر عمل چلتا ہے باہر تو چلو باہر بھی چل جاتی ہے تو والد کا جب تک کردار بچے نہیں دیکھتے کردار بچے نہیں دیکھتے جب تک اتنی دیر تک ان کا تبدیل ہونا ممکن ہے نہیں ہوتا
00:16:21حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خادم سے کہنے لگے بڑی سے پوچھو
00:16:29پوچھا اممہ السلام علیکم وآلیکم السلام اممہ کیا بات ہے تو اممہ کہنے لگے جاؤ دوڑا تمہیں کیوں بتاؤں دیاد کی سیدھی سادھی بی بی جاؤ بھاگ جاؤں
00:16:40کہا نہیں اممہ مہربانی کرو اندر تو آنے دو بڑی منت کے بعد اممہ مانی عمر فاروق عام آدمی نہیں جس سے دنیا کامتی ہے
00:16:50حضرت عمر اندر گئے اممہ کیوں پریشان ہو تو اممہ کہنے لگے تمہیں کیوں بتاؤں میرا اپنا دوکھ ہے چلو اممہ بتا دے تیری مہربانی
00:16:57اممہ کہنے لگی میں ایک بیوہ ہوں بے اولاد ہوں کوئی میرا سہارا نہیں ہوں
00:17:05مجھے عمر فاروق سے بڑی شکایت ہے میرے اوپر پچیس دینار کا کرزہ چڑ گیا ہے اور تین دن ہو گئے میں نے روٹی نہیں کھائی
00:17:14اور عمر نے میری خبر نہیں لی حضرت عمر کو پتہ چل گیا اللہ وارس ہے اس کا کوئی دو چار داس ہزار بوٹ کوئی نہیں
00:17:21ایک میکے سے چھ مربع نہیں لے کے آئی ایک اکیلی تنے تنہا
00:17:25اور بھائی جب اللہ کا خوف ہوتا ہے تو پھر انسان ان غریبوں کو بھی مناتا ہے
00:17:30پھر ریڑی والے کے بھی اہمیت بڑھ جا رہا ہے پھر رکشے والے کی قدر بھی بڑھ جاتی ہے
00:17:35حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ انہوں کہنے لگے اممہ عمر سے شکوہ ہے کہاں
00:17:41جناب عمر کہتے ہیں میں نے ایک جملہ کہا تو اممہ نے تو مجھے لا جواب کر دیا
00:17:45میں نے کہا اممہ عمر کو کیا پتا کہ تو بھوکی ہے اور مکروز ہے
00:17:50اسے کیا خبر
00:17:52تو اممہ کہنے لگے کیا کہا تم نے عمر کو خبر نہیں
00:17:56اسے پتا نہیں
00:17:58تو عمر سے کہو نہ چھوڑ دے حکومت
00:18:00اس کے حوالے کرے جو خبر رکھ سکتا ہے
00:18:03کیوں بیٹھا ہے ابھی
00:18:05ہمارے حکمران کہتے ہیں ابھی میں صدمے میں ہوں
00:18:07نکلوں گا تو بات کروں گا
00:18:09نہ ادھر ادھر کی تو بات کر
00:18:11یہ بتا کہ کافلا کیوں لٹا
00:18:13مجھے رہ زنوں سے غرض نہیں
00:18:15تیری رہ بری کا سوال ہے
00:18:17ہاں تجھے جواب دینا پڑے گا
00:18:20حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ
00:18:23سے اممہ کہنے لگی نہیں
00:18:25خبر رکھ سکتا تو حکومت کیوں کرتا ہے
00:18:27چھوڑتا کیوں نہیں
00:18:28تو حضرت عمر کہتے ہیں میں کافنے لگا
00:18:31دوڑے گئے جناب عمر
00:18:33میں نے کہا اس اممہ کا چھے زار بوٹ نہیں
00:18:36کہ اس کی قدر کی جائے
00:18:37یہ اممہ کوئی بہت آکس فورج
00:18:39یونیورسٹی کی ڈگری اولڈر نہیں کہ اس کی بات مانے جائے
00:18:42کہ لاوارس اور بیبا بی بی
00:18:43عمر دوڑے گئے
00:18:45گھر سے علاج کا تھیلہ کندے پہ رکھا
00:18:47پچیس دینار بھی لیے
00:18:50بکہ پکایا کھانا بھی لیا
00:18:52خادم کہنے لگا حضور مجھے دے دے
00:18:54میں اٹھا لیتا ہوں
00:18:55تو حضرت عمر فرمانے لگے چل بادہ کر
00:18:58قیامت کے دن بھی میرا بوجھ اٹھائے گا
00:19:00کہنے لگا جن ہی وہاں نہیں اٹھا سکتا
00:19:03فرمایا پھر آج بھی نہ اٹھا
00:19:04مجھے ہی اٹھانے دے
00:19:05یہ میرا بوجھ ہے تو مجھے ہی
00:19:08اممہ کے سامنے پچیس دینار بھی رکھے
00:19:10پھر اممہ کو
00:19:12حضرت فاروق عاظم نے
00:19:14دو مہینے کا راشن بھی لیا
00:19:16پکا پکایا کھانا بھی لیا
00:19:19معمولی آدمی کی بات نہیں کر رہا
00:19:21چوبیس لاکھ مربع مل کا حکم رہا
00:19:24حضرت عمر مدینے میں بیٹھ کے
00:19:26کبھی للکار دیں تو کیس رو کس را
00:19:28کی ٹانگیں کان پہ ہو
00:19:29جناب عمر فاروق رضی اللہ کھانا کھلا کے
00:19:31اممہ چار پچھ پہ تھی
00:19:33تو عمر نیچے بیٹھ گئے
00:19:35کہنے لگے اممہ چل عمر کو
00:19:37معاف کر دے
00:19:38چل جانے دے کوئی عرض نہیں
00:19:41بیچارے کو بتا نہیں چلا
00:19:42تو اممہ کہنے لگی تُو نے پھر عمر کا ذکر چھیر دیا
00:19:45بیٹے میرے گھاؤ بڑے گہرے ہیں
00:19:48میرے زخم
00:19:50بڑے سخت
00:19:50کہ لے جب پھٹے تو تجھے دکھاؤں کتنی تکلیف میں ہو
00:19:54میں تو پکا ہوا پھالوں
00:19:56کسی وقت بھی دنیا سے چلی جاؤں گی
00:19:58میں نے عمر کو معاف نہیں کرنا
00:19:59جب میں قبر میں جاؤں گی نا
00:20:02نبی کریم علیہ السلام آئیں گے
00:20:03تو میں عمر کی شکایت کروں گی
00:20:06میں کہوں گی حضور اس سے پوچھ
00:20:08پوچھئے یا رسول اللہ
00:20:09بیوہ اور بوڑی کا خیال ہی نہیں کیا
00:20:11تو آپ کے غلام کہتے ہیں
00:20:13میں نے عمر کو کبھی اتنا روتے نہیں دیکھا
00:20:15اتنا آج روئے
00:20:16کہنے لگے
00:20:17اممہ عمر کو میں جانتا ہوں
00:20:19وہ کمزور ہے
00:20:19یہ شکایت نہ لگانا
00:20:21وہ کمزور ہے
00:20:22مقابلہ نہیں کر سکے گا
00:20:24یہ شکایت نہ لگانا
00:20:25چل معاف کر دے
00:20:26تو اممہ کہنے لگی
00:20:28اچھا
00:20:28تو مجھے کچھ اچھا لگتا ہے
00:20:30جا تیری خاطر عمر کو معاف کیا
00:20:32تو پیارا لگا ہے
00:20:34جا معاف کیا
00:20:35تیری خاطر معاف کیا
00:20:36تیری خاطر عمر کو معاف کیا
00:20:38حضرت عمر فاروق کہنے لگے
00:20:41مجھے لکھ کے دو
00:20:41کون اتنے جتن کرتا ہے
00:20:44کون
00:20:45کسی سے کہنا
00:20:46جا اپنی اممہ کو منع لے
00:20:47تو کہتے ہیں
00:20:47نہیں نہیں
00:20:48میری غلطی کوئی نہیں
00:20:49تو مناؤں کس بات
00:20:50ہمیں تو بیسیوں دلیلیں آتی ہیں
00:20:52جا ابا کے پیر پکڑ لے
00:20:54پتہ ہے
00:20:55نبی پاک علیق السلام نے فرما
00:20:57جس کا باپ راضی ہوگا
00:20:58اس ہی کا اللہ راضی ہوگا
00:21:00اور جس کا باپ نہ راض ہوگا
00:21:02وہ سارا دن وزیر پڑے ہیں
00:21:03اس کا اللہ راضی
00:21:04یہ ابودعو شریف کی حدیث ہے
00:21:06نہ جی بڑی مہربانی
00:21:07پیسے نہ لائیے گا
00:21:08آپ بات سنیں
00:21:09وہ بھی میں سمیٹھنے کی طرف آ رہا ہوں
00:21:11ختم کر رہا ہوں
00:21:11آپ میری بات پر توجہ رکھیں
00:21:13عزیز بھائی
00:21:14نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
00:21:17نے جو اپنے غلاموں کی تربیت کی
00:21:19تو حضرت عمر فاروق کہنے لگے
00:21:21لکھ دو
00:21:21لکھ دو
00:21:24تو اممہ کہنے لگی
00:21:25آپ لکھیں میں سائن کر دیتی ہوں
00:21:27آپ لکھ دیں میں سائن کر دی ہوں
00:21:30حضرت عمر نے لکھا
00:21:31فلان بنت فلان کو عمر سے شکایت تھی
00:21:33پھر انہوں نے عمر کو معاف کر دیا
00:21:36اممہ سائن کرنے ہی لگی تھی
00:21:39سائن کرنے ہی لگی تھی
00:21:41کہ مولا علی شہر خدا آگئے
00:21:42حضرت عبداللہ ابن مسعود آگئے
00:21:45اوہ اوہ امر یہاں بیٹھے ہوئے
00:21:47میں سارے مدینے میں تلاش کر رہا تھا
00:21:50یہاں بیٹھے ہو
00:21:50وہ کچھ لوگ ملنے آئے نکلو
00:21:52اممہ نے سنا کہ یہ عمر تھے
00:21:55تو اممہ اٹھ کے کھڑی ہو گئے
00:21:56اممہ نے سائن کر دے
00:22:05اممہ نے سائن کیے
00:22:08حضرت عمر فاروق فرمانے لگے
00:22:10علی آگئے ہو تو بطور گواہ
00:22:12تم بھی دستخط کر دو
00:22:13عبداللہ ابن مسعود
00:22:15تم بھی بطور گواہ دستخط
00:22:16جب سائن ہوئے تو جناب عمر نے رکھا
00:22:18لپیٹا
00:22:19اور مولا علی شہر خدا سے فرمانے لگے
00:22:22علی یہ رکھ لو
00:22:23مجھے لگتا ہے میں تم سے پہلے دنیا سے جاؤں گا
00:22:26اور جب میں پردہ کر جاؤں نا
00:22:28تو یہ رکھا میرے کفن میں رکھ دینا
00:22:30اگر حضور علیہ السلام نے پوچھا نا
00:22:33میری امت کے ساتھ کیا سلوک کر کے آئے ہو
00:22:36تو رکھا نکال کے کہوں گا
00:22:38یا رسول اللہ ایک بوڑی نراز تھی
00:22:39میں اسے بھی راضی کر کے آیا
00:22:41حضور یہ میں راضی ہوں
00:22:43بھائی
00:22:43جب تک ہم
00:22:45اللہ سے نہیں ڈرتے
00:22:46معاشرہ اسلاح پذیر نہیں ہو سکتا
00:22:48حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی
00:22:51انہوں نے باہر والوں کا بھی بڑا سخت احساب کرتے تھے
00:22:54بڑا
00:22:54ایک گورنر صاحب
00:22:56نے لباس بڑا شاندار پینا شروع کر دیا تھا
00:22:58تو حضرت عمر نے اتروا کے نا
00:23:00تو انہیں ٹاٹ کا لباس پینا کے
00:23:01تو اونٹ چرانے کی ڈیوٹی دے دی دی
00:23:03اتنا سخت احتساب کرتے
00:23:06کسائی کی دکان پر بھی ایک دو گھنٹے کھڑے ہوتے تھے
00:23:09جو آدمی مسلسل دو دن گوشت غریبتا تھا نا
00:23:12فرماتے ہیں اس کا ٹیکس بڑھا دو
00:23:14لوگوں کو ڈال نہیں مل رہی اور یہ روز گوشت کھاتا ہے
00:23:17حضرت فاروق آدم اس کو جزیہ کہا جاتا تھا
00:23:20کچھ اور معاملات ہوتے تو بڑھا دیتے تھے
00:23:23مسلسل جو دو دن آدمی گوشت کھاتا تھا
00:23:26فرماتے تھے مدینے میں غربت ہے
00:23:27اگر یہ والا نظام تم کرو گے
00:23:30تو غریب لوگ کس کی طرف دیکھیں گے
00:23:31لیکن اس سے زیادہ بڑھ کر
00:23:34جو ان کی زندگی کا میار اور سٹیپس تھا
00:23:38وہ یہ تھا کہ اپنے گھر کا خاص خیال رکھتے
00:23:40خاص توجہ کرتے
00:23:42ملک شام سے
00:23:43اور ایران سے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں آئے
00:23:48تو وہاں سے کچھ کنیزیں بھی آئیں
00:23:49ان کے بادشاہ پیغام لے کے
00:23:51شاہ ایران کی کنیز
00:23:54کو ملکہ نے کہا
00:23:55کہ نہ حضرت عمر کی زوجہ کو دیکھ
00:23:57کیا نہ کس طرح کی
00:23:59ہمارے ملک میں کیا کہتے ہیں
00:24:01خاتون اول
00:24:02خاتون باقی سارے دووں میں
00:24:07خاتون اول
00:24:09براہ خاتون اول کو دیکھ کے آنا
00:24:11تو وہ جب آئی نا گھر میں ملنے
00:24:15تو کہا کہ مجھے میری ملکہ نے کہا
00:24:17کہ عمر کی زوجہ سے اہلیہ سے ملاقات
00:24:20کیا اور کیا نا تو حضرت عمر کی اہلیہ نے
00:24:21ایک جوڑا کپڑوں کا دے دیا ملکہ کے لیے
00:24:24اور ایک خوشبو کی شیشی دے دی
00:24:26اب جب وہ توفے وہاں بھی گئے
00:24:29تو اس ملکہ نے نا کچھ سونے کا سامان بیجا
00:24:32کچھ زیورات بیجے
00:24:34کچھ تحائف بیجے
00:24:35جب حضرت عمر کے گھار آئے نا
00:24:37وہ خادم لے کے آیا
00:24:38اس نے کہا دی آپ کی اہلیہ نے
00:24:40توفے بھیجے تھے
00:24:41تو جواب میں شاہ ایران کی بیوی نے
00:24:43یہاں جس ملک کا وہ صفیر تھا
00:24:45انہوں نے بھی یہ بھیجے
00:24:46صدرت عمر فاروق نا
00:24:48وہ توفے لے کے گھر گئے
00:24:49تو جا کے کہنے لگے
00:24:50اپنی اہلیہ سے
00:24:51یہ تو کم سے توفے تھا ہے
00:24:52بھیجنے لگ گئی ہے
00:24:53یہ کم سے نظام شروع ہو گیا
00:24:56تو کہا حضور
00:24:58توفہ دینا لینا
00:24:59تو ٹھیک ہے
00:25:00سنت ہے
00:25:00محبت بڑھتی ہے
00:25:01تو یہ کوئی قبارت نہیں
00:25:02اور میں نے اپنی ذاتی
00:25:04استعمال کے لئے
00:25:05یہ چیزیں رکھی تھی
00:25:05وہ میں نے دی ہیں
00:25:06صدرت عمر فاروق
00:25:08رضی اللہ عنہ
00:25:08نے فرمانے لگے
00:25:09ہم نے کسی ملک کے ساتھ
00:25:11اور اس کے بادشاہ کے ساتھ
00:25:12ذاتی تعلق نہیں بنانا
00:25:14تعلق جو بھی بنے گا
00:25:16رسول اللہ کے دین کی برکت سے بنے گا
00:25:19ذاتی رشتے نہیں
00:25:21ہم نے قائم کرنے ذاتی
00:25:22آپ کے ملکی جو ائر لائن
00:25:25جس کا ہر سال
00:25:26خسارے کا نڈورہ پیٹا جاتا ہے نا
00:25:28وہ ہمارے بادشاہ صاحب
00:25:30وہ صدر صاحب
00:25:31اگر غیر ملکیوں کو
00:25:33گھوڑا کبھی بھیجنا ہو نا گھوڑا
00:25:34تو پورا ایک جہاز
00:25:36گھوڑا لے کے توفے میں جاتا ہے
00:25:37پورا جہاز
00:25:39غریب قوم کا
00:25:40یہ سرمایہ
00:25:41اور قوم بڑی بادشاہ ہے
00:25:43لائنوں میں لاکے بوٹ دیتی ہے
00:25:44دو کام ہمیشہ لائن میں لاکے کرنے
00:25:47ایک بیل لائن میں لاکے جمع کرانا ہے
00:25:49اور ایک ووٹ
00:25:50لائن میں لاکے
00:25:52تاکہ پورے پانچ سال لائن میں ہی لگے رہے ہیں
00:25:55مرضی سے آپ ووٹ دینا
00:25:56پر جو بات درست ہے اس کو سنو
00:25:58حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی
00:26:00انہوں نے اپنی اہلیہ سے پوچھا
00:26:02کتنے کا تھا وہ تیرا جوڑا
00:26:04اور خوشبو کی شیئی
00:26:05انہوں نے کہا تین دینار کی
00:26:06فرمایا یہ تین دینار تیرے
00:26:08اور باقی جو توفے آئے ہیں
00:26:10وہ تُو خود کہے
00:26:11کیونکہ اس نے تیرے نام بھیڑے ہیں
00:26:13تُو کہے کہ میں مالِ گنیمت میں دیتی ہوں
00:26:15تُو کہے میں مسلمانوں کو کہے
00:26:19تو زوجہ ہس پڑی
00:26:20کہنے لگی میں نام بھی کہوں
00:26:21تو مجھے کہنا تو پڑے گئی
00:26:23کہنا تو میں نے ہے ہی
00:26:25کیونکہ سامنے عمر فاروق ہیں
00:26:26لہذا فرمایا کہہ دیتی ہوں
00:26:28میں نے دیا خزانے کو
00:26:30حضرت عمر نے جمع کرا لیا
00:26:31یہ کیا بات ہو
00:26:32میرے گھر والے جو مرضی کریں
00:26:35ان کا میار زندگی جس طرح کا مرضی ہو
00:26:38اور حضرت عمر ایک جملہ کا کرتے تھے
00:26:41اللہ کرے کہ یہ باتیں
00:26:44اس دور حاضر میں ہماری سمجھ میں آئیں
00:26:46حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ
00:26:49نے اپنے بچوں کو فرمایا کرتے تھے
00:26:50کہ بہت آدمی کو بھوک لگی ہونا
00:26:53اور پھر اس کی پسند کا کھانا پکا ہو
00:26:56جتنے شوق سے وہ اس کھانے کو دیکھتا ہے نا
00:27:00فرمایا اس طرح پوری قوم
00:27:02اپنے بادشاہوں کے خاندان کو دیکھتی ہے
00:27:04اس تیزی کے ساتھ دیکھتے ہیں
00:27:07کہ ان کے گھر میں کیا ہو رہا ہے
00:27:09ان کا میار زندگی کیا ہے
00:27:11ان کا سٹیٹس کیا ہے
00:27:13سیدنا فاروق عاظم
00:27:15رضی اللہ تعالیٰ انہوں نے
00:27:17اپنے گھر کے اندر
00:27:18اپنے بچوں آپ
00:27:19کے بچے دونوں کاروبار کے لیے
00:27:23مصر گئے ہیں
00:27:23تو وہاں کے گورنمنٹ صاحب نے
00:27:27لوگوں سے ایک بہت بڑا کافلہ گیا
00:27:29مدینے سے مصر تجارت کے لیے
00:27:30جاتے ہیں نا آج بھی کافلے
00:27:32کئی ملکوں میں
00:27:33تو یہ گئے تجارت کے لیے
00:27:36تو حضرت عبداللہ ابن عمر
00:27:38حضرت عبید اللہ ابن عمر
00:27:39حضرت عمر کے دونوں بیٹے گئے
00:27:40جناب عمر فاروق کے بچے جب وہاں پہنچے
00:27:42تو مصر کے گورنر نے
00:27:45لوگوں کو تعریف کرایا
00:27:46کہ یہ عمر فاروق کے بیٹے ہیں
00:27:48یہ حضرت
00:27:50چوزری کے بیٹے کو کون بتاتا ہے
00:27:53کہ تُو چوزری کا بیٹا ہے
00:27:54بار والے بتاتے ہیں گھر والے
00:27:57جی
00:27:58اور سید صاحب کے بیٹے کو
00:28:01کون بتاتا ہے
00:28:01کہ تُو سید صاحب کا بیٹا ہے
00:28:03اور مالک کو کون بتاتا ہے
00:28:06کہ تُو مالک کا بیٹا ہے
00:28:07اور یہ قرائدار ہے
00:28:08یہ کون بتاتا ہے
00:28:09یہ سوچ ہم دیتے ہیں بچوں
00:28:12چوزری اور کمی کی سوچ
00:28:14امیر اور غریب کی سوچ
00:28:16مالک اور قرائدار کی سوچ
00:28:18گھر پہ مالک کی
00:28:20اور کام کرنے والے کی سوچ
00:28:22یہ ہم دیتے ہیں
00:28:23یاد رکھنا یہ ہم دیتے ہیں
00:28:24یہ ہمارا مزاد ہے
00:28:25یہ بار سے نہیں آتی ہے
00:28:27تُو کوئی شدادہ ہے
00:28:28تُو سیٹ ہے
00:28:30تُو نواب ہے
00:28:31یہ سوچ باہر سے نہیں آتی ہے
00:28:33یہ اممہ سوچ دیتی ہے
00:28:35اممہ
00:28:36یہ اممہ سوچ دیتا ہے
00:28:37اور پھر جب تباہی اترتی ہے
00:28:39تو اس کے ذمہ دار بھی
00:28:40باہر والے
00:28:41نہیں ہوتے
00:28:42گھر والے ہوتے ہیں
00:28:43گھر والے
00:28:44ہمارے بچوں کی طبیعتوں پر
00:28:46زیادہ نقش باہر والوں کا نہیں ہوتا
00:28:48گھر والوں کا ہوتا ہے
00:28:50یاد رکھیے گا
00:28:51حضرت عمر فاروق
00:28:52رضی اللہ
00:28:54بچے ہیں شدادے ہیں
00:28:55وہ کاروبار کرنے گئے
00:28:56اور وہاں لوگوں نے بتایا
00:28:57گورنر صاحب نے کہ
00:28:58یہ فاروق عظم کے بچے
00:29:00امیر البومن ہیں ان کے
00:29:01لوگوں نے ان سے زیادہ مال خریدا
00:29:03تجارت میں زیادہ نفع ہوا تھا
00:29:06ہی رہے کہ وہ
00:29:07آپ کے جو
00:29:08اللہ خیر کرے
00:29:10حکمران ہیں
00:29:11ان کے کاروبار کتنے ملکوں میں ہیں
00:29:12کس بنیاد پر ہیں
00:29:14وہ صرف اس بنیاد پر
00:29:16کہ وہ حکمران دہے
00:29:17ان کے لئے آسان تھا
00:29:19بڑے لوگوں سے تعلقات بنانا
00:29:21حضرت عمر فاروق
00:29:22رضی اللہ تعالیٰ عنہ
00:29:24کہ بچے دھیروں مال کما کے
00:29:25جب واپس آئے نا
00:29:26تو حضرت عمر سے آ کے
00:29:29بچوں نے
00:29:29بطور محبت کا
00:29:31ابا جی اللہ نے بڑا ہی فضل کیا ہے
00:29:32بڑا مال کمایا
00:29:34الحمدللہ
00:29:34یہ دیکھیں کتنا نوازہ ہے
00:29:36تو حضرت عمر کہنے لگے
00:29:37سارے کافلے نے اتنا ہی کمایا
00:29:38سارے کافلے نے اتنا ہی کمایا
00:29:43حضور نہیں
00:29:44سارے کافلے نے اتنا نہیں کمایا
00:29:46سب کو اتنا نہیں ملا
00:29:49وہ تو وہاں گورنر صاحب
00:29:51میں لوگوں کو تعریف کرایا تھا
00:29:52کہ یہ عمر کے بچے ہیں
00:29:53تو لوگوں نے پھر ہم سے بڑا ہی خریدا
00:29:55تو حضرت عمر فرمانے لگے
00:29:56ٹھیک ہو گیا
00:29:57میں بعد سے عمر کیوں
00:29:58اس طرح کرو
00:29:58جو تمہاری اصل ذارتی نا
00:30:01جو راز تھی وہ را کھلو
00:30:02اور باقی سارا مال
00:30:03مالِ خدانہ میں جب آگر آدھو
00:30:04اس لیے کہ یہ تم نے تجارت نہیں کی
00:30:07یہ تم نے اپنے باپ کا نام بیچا ہے
00:30:09یہ تم نے
00:30:10امیر المومنین کے بیٹے ہونے کا
00:30:13فائدہ اٹھایا ہے
00:30:14فرمائے یہ یہ تمہارا نہیں حق
00:30:16یہ مسلمانوں کا ہے
00:30:17اس لیے کہ یہ مال
00:30:19تم نے محنت سے نہیں کمایا
00:30:20یہ باپ کی کرسی کا فائدہ اٹھایا ہے
00:30:23اور فرمائے
00:30:24اگر تم نے مال جمعنا نہ کرایا
00:30:25تو میں مال بھی لے لوں گا
00:30:26زبردستی اور کوڑے بھی ماروں گا
00:30:28ڈبل صلاح دوں گا
00:30:30مردی سے جمع کرا ہوگے
00:30:31تو کوڑوں سے بچ جاؤ گے
00:30:33بڑے بیٹے نے تو جمع کرا دیا
00:30:35تو چھوٹا تھوڑا پریشان ہوا
00:30:37حضرت عبداللہ ابن عمر چھوٹے کما تھا
00:30:39چونکہ کہنے لگے بیٹے
00:30:41چھوٹ کر کے جمع کرا
00:30:42یہاں بھی فخر کر کے ہم عمر کے بیٹے ہیں
00:30:45اور قیامت میں بھی فخر کریں گے
00:30:47کہ ہم فاروق آزم کے بیٹے ہیں
00:30:49یہاں بھی ناز کریں گے
00:30:51اور وہاں بھی ناز کریں گے
00:30:53کہ عمر کے بچے ہیں
00:30:55ہمارے باپ نے خود بھی حلال ہی کھایا ہے
00:30:57اور جب ہماری کمانے کی باری آئیا
00:31:00تو ہمیں حکم بھی حلال کھانے کا دیا
00:31:03بھائی ہمارا مداج نہیں ہے
00:31:05بچہ جب لے کے آتا ہے دو لاکھ روپیہ
00:31:07تو کبھی پوچھے کہاں سے آئے
00:31:08جب وہ پہلے دن غلط دوستوں کے پاس جا کے بیٹھتا ہے
00:31:13تو کبھی نکالا ہے گھر سے اسے
00:31:14یہ بہت سارے خمیازیں
00:31:16ہمیں اس لئے بھگتنے پڑتے ہیں
00:31:18کہ ہم ابتدا میں سراخ بند نہیں کرتے
00:31:23جب اس میں شکاف پڑ جاتا ہے
00:31:25سلاب آتا ہے
00:31:26تو ہمیں ہوش آتی ہے
00:31:27حضرت عمر نے اپنے گھر میں نگرانی رکھی
00:31:30زیادہ نماز گھر میں پڑتے تھے
00:31:33نفلی نمازیں زیادہ
00:31:35کیوں بھلا
00:31:36بھائی یاد رکھیں
00:31:38کہ آپ نے اگر سجدہ کرنا ہے
00:31:40تو بچہ لیٹ جائے گا
00:31:41وہ ان سے بتا کوئی نہیں سجدہ کیا ہے
00:31:43لیکن جب گھر میں کبھی قرآن
00:31:45اببا جی کھول نہیں
00:31:46جب اببا جی کا موڑ بانجا
00:31:47لیکچر دینے کا
00:31:48وہ گھر میں شروع ہو جاتے
00:31:50کہتے ہیں آپ لوگ نماز نہیں پڑتے
00:31:52اس لئے میرے کاروبار میں برکت کوئی نہیں دیں
00:31:54تم سویرے قرآن پاک نہیں کھولتے
00:31:56تو میں تباہ ہو گیا
00:31:56تو میاں آپ نے کب گھر میں قرآن پاک کھولا تھا
00:31:59آپ نے کب نماز پڑی
00:32:00آپ نے کب گھر کے اندر
00:32:02اللہ رسول کا ذکر کیا تھا
00:32:03آپ نے کب حدیث چھیڑی
00:32:04آپ نے بھی تو گھر کے اندر
00:32:07جب بھی آپ آئے ہیں
00:32:08تو آپ نے وہی کچھ کیا
00:32:09جو دنیا دار کرتے ہیں
00:32:10آپ بھی تو اپنا موبائل لے کے
00:32:12اللہ کونے میں بیٹھ رہے ہیں
00:32:13آپ نے بھی تو کہا
00:32:15کہ اب تمہارے چینل ختم
00:32:16اب میری مرضی والا چلے گا
00:32:18تو جو آپ نے کیا ہے
00:32:19بچے بھی وہی کام
00:32:20کریں گے
00:32:21آپ نے بھی گاب شاب لگائی ہے
00:32:23تو وہ بھی لگا رہے ہیں
00:32:24یہ سمجھ نہیں
00:32:25جو کام آپ کریں گے
00:32:27آپ اپنے بچوں کی صیرت میں
00:32:28اس کا جلوہ دیکھ لیں گے
00:32:30پڑی پڑی پکی سی بات ہے
00:32:32کہ آپ کو بچے کی آج تن دے کے
00:32:34سمجھ آ جائے گی
00:32:35کہ میں بھی یہی کرتا تھا
00:32:36اور یہ بھی
00:32:36حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی
00:32:39نے وصال فرما گئے
00:32:40تو آپ کے وصال کے بعد
00:32:42حضرت عثمانِ گنی رضی اللہ تعالی
00:32:44انہوں نے آپ کی ایک بیوہ سے نکاح کیا
00:32:46حضرت عمر کی ایک بیوہ سے
00:32:49جب وہ آپ کے نکاح میں آئی
00:32:51تو کہنے لگی
00:32:52حضرت عثمانِ گنی سے
00:32:53کہ حضور نہ تو میں خوبصورت ہوں
00:32:56اور نہ میں جوان ہوں
00:32:57نہ آپ کی کوئی خدمت کر سکتی
00:32:58میرے سے نکاح کرنا سمجھ میں نہیں آیا
00:33:01کیا شاندار جواب دیا
00:33:03حضرت عثمانِ گنی میں
00:33:04کیا خوبصورت جواب دیا
00:33:07فرمانے لگے
00:33:08میں نے اس لیے نکاح نہیں کیا
00:33:09کہ مجھے تمہارے غسن سے دلچسپی تھی
00:33:11یا تمہاری خدمت کی ضرورت تھی
00:33:14میں نے تو اس لیے نکاح کیا ہے
00:33:16کہ مجھے بتاؤ
00:33:17عمر فاروق گھر کے اندر
00:33:19اپنے رب کی عبادت کس طرح کرتے تھے
00:33:21وہ قرآن پاک کس طرح پڑتے تھے
00:33:23وہ رویاں کیسے کرتے تھے
00:33:25استفار کا طریقہ کیا
00:33:26کس انداز میں
00:33:29وہ اپنے رب کو یاد کرتے تھے
00:33:31اس لیے کہ عمر کئی دفعہ گھر سے آتا تھا
00:33:34تو میں اس کے چہرے پر نور دیکھا کرتا تھا
00:33:36میں روشنے دیکھتا تھا
00:33:38ایک میار دیکھتا تھا
00:33:39نکاح اس لیے کیا ہے
00:33:41کہ مجھے عمر کی
00:33:42جو گھر کے اندر کی عبادت ہے
00:33:44اس سے آگاہ کرو
00:33:45تاکہ عثمانے گنی بھی چاہتے ہیں
00:33:47اس طرح کے عمل کرو
00:33:48جس طرح کے عمریں فاروق کر کے گئے ہیں
00:33:50بھائی
00:33:51جب تک ہم اپنے گھر میں
00:33:53وہ توجہ نہیں دیں گے
00:33:54وہ مزار
00:33:55دیکھیں نا
00:33:56ہمارے گھروں میں جب نقشہ پاس ہوتا ہے
00:33:58تو ٹی وی لان بھی اس میں ہوتا ہے
00:34:00ڈرائنگ روم بھی ہوتا ہے
00:34:02نماز کی جگہ بھی ہوتی ہے نقشی میں
00:34:04صحابہ جب گھر بناتے تھے
00:34:07تو ایک مسجد بیعت کا نقشہ پاس کرتے تھے
00:34:09ذہن میں رکھتے تھے
00:34:11کہ یہ کونہ نماز کے لیے
00:34:12وہاں جوتے لے کے کوئی نہیں جائے گا
00:34:14وہاں نماز پڑھی جاتی تھی
00:34:15عورتیں وہاں اتقاب کرتی
00:34:16ٹی وی لان تو آ گیا ہے
00:34:20اور گھر کے اندر ٹی وی رکھنے کے لیے
00:34:23تو ایک کمرہ الگ سے بنا دیا گیا ہے
00:34:25اور اب جو نئے نقشے پاس ہو رہے ہیں
00:34:27اس کے اندر گھروں کے اندر جگہ بنائی گئی ہے
00:34:29جہاں کمپیوٹر رکھے جائیں
00:34:30اور بچوں کے لیے وائرنگ ہوگی نیچے
00:34:33تاکہ انہیں کوئی مشکل درپیش نہ ہو
00:34:35یہ ساری چیزیں
00:34:36ہم نے نہانے کے لیے گھروں کے اندر
00:34:38اتنے اتنے بڑے باشنوں بنائے ہیں
00:34:40کہ لگتا یہ ہے کہ سوائے نہانے کے
00:34:42اور کام ہی نہیں کوئی گھر میں ہوگا
00:34:44ہر چیز آ گئی
00:34:45پر اللہ کرے
00:34:47کوئی تفسیر بھی ٹیبل پہ پڑی نظر آئے
00:34:49کوئی حدیث کی کتاب بھی ٹیبل پہ پڑی نظر آئے
00:34:53اللہ کرے کہ جس طرح
00:34:54اببہ لطیفہ سن کے آتا ہے
00:34:57تو جب تک سنانا لے
00:34:58اسے عظم نہیں ہوتا
00:34:59اللہ کرے کہ وہ جمعہ میں بیان سن کے جائے
00:35:02تو اس کا بھی دل کرے میں اپنے بچوں کو سناؤں
00:35:05وہ نبی پاکی کوئی حدیث کہیں سے سنے
00:35:07تو گھر جا کے سنائے
00:35:08جب تک یہ میار نہیں بنتا
00:35:10آپ کیسے توقع کرتے ہیں
00:35:12کہ گھر کے اندر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں گے
00:35:14آپ یہ کیسے توقع کرتے ہیں
00:35:16کہ گھر کے اندر وہ میار اور وہ مزاج بنے گا
00:35:19حضرت عمر فاروق نے
00:35:20ذاتی زندگی پر جو توجہ دی
00:35:22گھار والوں کے میار پر جو توجہ دی
00:35:25حضرت عمر فاروق
00:35:26رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
00:35:27وہ بھی بڑی دیدنی ہے
00:35:29حضرت عمر موسیٰ آشری کو نا آپ نے
00:35:31وزیر خزانہ بنایا
00:35:32وزیر خزانہ
00:35:35تو حضرت عمر موسیٰ آشری کہتے ہیں
00:35:36کہ حضرت عمر کوئی شہر خزانے میں رہنے
00:35:39تو دیتے نہیں تھے
00:35:40تو ایک دن میں صفائی کر رہا تھا
00:35:43اس کمرے جس میں خزانہ رہتا تھا
00:35:46ہمارے تو ملک میں جو جاتا ہے
00:35:47وہ صفائی کر کے ہی جاتا ہے
00:35:49اللہ خیر کرے
00:35:50اور خیر میار بدلتا ہے
00:35:52جو پچھلی حکومت ہوتی ہے وہ کرزہ اٹھاتی ہے
00:35:55وہ باہر سے جاتی ہے
00:35:57تو کرزہ لے کے آتی ہے
00:35:58اور جو نہیں آتی ہے وہ کہتی ہے
00:36:00ہمیں پیکج مل گیا ہے
00:36:01وہ کرزہ نہیں اٹھاتے
00:36:03ان کو کیا ملتا ہے
00:36:04یعنی پچھلی نے کرزہ لیا تھا
00:36:06اور ہم نے
00:36:07واہ جی واہ
00:36:08کیا خوبصورت انتاز ہے
00:36:10اس کا نام بدل کے نا
00:36:12انہوں نے کرزہ لیا تھا
00:36:13اور ہم نے
00:36:14میں کہا بڑے شاندار سے آنے بندے ہو گئے
00:36:16اور اللہ تعالی خیر فرمائے
00:36:18ہمارے جو بڑے شاندار قسم کے
00:36:22دھوست ہیں نا شاندار
00:36:24جن کا ہم عدب سے نام لیتے ہیں
00:36:26وہ عرب کے بادشاہ ہیں
00:36:27ہم تو عرب خالی کہتے بھی نہیں
00:36:29عرب شریف کہتے ہیں
00:36:30عرب شریف
00:36:32انہوں نے بتا کیا ہے
00:36:34انہوں نے اس طرح کیا ہے
00:36:36کہ جو کشمیریوں کا قاتل تھا نا
00:36:38اس کے گلے میں میڈل ڈال دیا ہے
00:36:40ایک کام وہ کرتے رہتے ہیں
00:36:41انہوں نے پہلے انہیں بلا کے
00:36:42مندر بھی بنوائے تھے
00:36:44ہمیں کوئی شکوہ نہیں
00:36:45ان کی زمین ہے
00:36:46اللہ تعالیٰ توفیق عطا کرنے والا ہے
00:36:48پر خیال یہ تھا کہ چلو کشمیریوں کے
00:36:51زخموں پر نمک نہ چھڑکتے
00:36:52دو مہینے انتظار کر لیتے
00:36:54کچھ حالات سمر جاتے
00:36:56کچھ تھوڑا انتظار
00:36:57ہیں مارے دوست
00:36:58مارے وزیر اعظم صاحب جب جاتے ہیں
00:37:01تو وہ پھولوں کا اڈالتے ہیں
00:37:02ہیں مارے دوست
00:37:03لیکن انہیں وہ حدیث یاد نہیں
00:37:06کہ نبی پاک علیہ السلام نے فرمایا
00:37:09جب میرے مومن کو تکلیف ہوتی ہے
00:37:10تو مجھے بھی گمبدِ خضرہ میں تکلیف ہوتی ہے
00:37:13انہیں نہ کشمیریوں کا خون یاد نہیں آیا
00:37:16انہیں برہان بانی کی کٹی ہوئی
00:37:19لاش یاد نہیں آئی
00:37:21انہیں تیس ہزار بیوہ عورتیں
00:37:24تیس ہزار بیوہ عورتیں
00:37:26یاد نہیں آئی
00:37:27تیس ہزار بیوہ عورتیں
00:37:29جن کے سوا گجڑ گئے
00:37:31اور انہیں سوہ لاکھ
00:37:33یتیم بچہ یاد نہیں آیا
00:37:35یہ یتیمی کی زندگی گزار رہا ہے
00:37:37اور اس کے باوجود
00:37:39بہت بڑے ذمہ دار ہیں وہ
00:37:40مجھے پڑھ لینے دو آج احمد فراز کا شیر
00:37:43وہ ہمارے مکتب کوئی ایسا نہیں
00:37:46کہ وہ مولوی تھا وہ غیر جانب دار تھا
00:37:48پر مجھے آج پڑھ لینے دو اس کا شیر
00:37:50اکلیجے کا درد ہے پڑھ لینے دو
00:37:52اس نے کہا تھا
00:37:54کہ پڑھتا ہوں تو کہتی ہے
00:37:56یہ خالق کی کتاب
00:37:58ہے مثل یہودی
00:38:00یہ سعودی بھی عذاب
00:38:02اس قوم کے بارے میں کیا لکھوں فراز
00:38:05کعبے کی کمائی سے جو پیتے ہیں شراب
00:38:07کعبے کی کمائی سے جو پیتے ہیں شراب
00:38:11اس قوم کے بارے میں کیا لکھوں فراز
00:38:14کعبے کی کمائی سے جو پیتے ہیں شراب
00:38:17میں خیال نہیں آیا
00:38:18تمہارا صرف دین یہ ہے
00:38:20کہ قبریں گرا دو
00:38:21مزارات گرا دو
00:38:23فقط یہ دین ہے
00:38:24کوئی نبی پا کے روزے کی طرف مو کرے
00:38:26تو اسے مشرق ہو
00:38:27یہ دین ہے
00:38:28اس کا نام مذہب رکھا ہے تم نے
00:38:30مذہب تو اس کا نام ہے
00:38:32کہ جو رسول اللہ کا نام لینے والا ہے
00:38:34وہ ہمارا جہار ہے
00:38:35اور جو نبی پاک کا نام لینے والا نہیں
00:38:38ہمارا اس سے کوئی تعلق ہے
00:38:40یہ دین ہے
00:38:41حضرت عمر فاروق کی صرف سنا رہا ہوں
00:38:43حضرت عمر کی
00:38:44حضرت عبو موسیٰ عشری نے
00:38:47ایک عیسائی کو منچی رکھا تھا
00:38:50ایک آنٹ آفیصر حضرت عبو موسیٰ عشری نے
00:38:52تو حضرت عمر فاروق گول پڑے
00:38:53کہنے لگا تمہیں مسلمان کوئی نہیں ملا تھا
00:38:56کلمہ گونی تمہیں نظر آئے
00:38:58کشمیریوں کی لاشیں نظر نہیں آتی
00:39:01ان کا خون بیرہ ہے
00:39:03تباہی اتر رہی ہے
00:39:04اور تم قاتل کو گولڈ میڈل پینا رہے ہو
00:39:07اور یاد رکھنا
00:39:08جب مسلمانوں کی بچیاں روندی جاتی ہونا
00:39:12تو پھر اسلام امن کا درس نہیں دیتا
00:39:14پھر اسلام جہاد کی بات کرتا ہے
00:39:16پھر اسلام جہاد کی بات کرتا ہے
00:39:19جہاد کی
00:39:19وہ قوم غیرت مند نہیں ہوتی
00:39:21کہ جن کے گھروں میں آگ لگی ہو
00:39:23اور وہ غیروں کو ہار پیناتی پی رہے
00:39:26اللہ کا کچھ خوف کرو
00:39:27زندگی مختصر ہے
00:39:29دبائی میں کتنے رہے اور کتنے
00:39:30چلے گئے
00:39:32خدا را
00:39:32تم سے اچھے تو وہ
00:39:34نیو یارک کے رائٹر ہیں
00:39:36جو کم از کم اپنے کالموں میں
00:39:38کشمیر کی بات کرتے ہیں
00:39:40تم سے اچھا برطانیہ کا وہ شخص ہے
00:39:42جو کم از کم بی بی سی لندن پر پورٹ جاری کرتا ہے
00:39:45تو کہتا ہے کشمیر پر ظلم ہو رہا ہے
00:39:47تم سے تو وہ اچھے رہ گئے ہیں
00:39:53کل جب پوچھیں گے بلا کے تم کو اپنے سامنے
00:39:56کیا جواب ہے جرم دوگے
00:39:58تم خدا کے سامنے
00:39:59بڑی تکلیف ہوئی
00:40:01بڑی تکلیف ہوئی
00:40:02وہ نا
00:40:03منصور اللاج کو پھانسی دی جا رہی تھی
00:40:08حضرت جنید بغدادی بھی آ کے دیکھنے لگے
00:40:11تو منصور اللاج کہنے لگے
00:40:13بابا سارا زمانہ دیکھے
00:40:15پر تو تو نانہ دیکھ
00:40:16سارا زمانہ تماشا دیکھے
00:40:19انہیں تو پتا کوئی نہیں نا
00:40:20تو تو تو نانہ دیکھ
00:40:22عرب شریف والو
00:40:23ٹرمپ اسے انعام دیتا
00:40:25اب تو تکلیف کوئی نہیں تھی
00:40:26ملکہ وکٹوریا اسے انعام دیتی
00:40:29تو تکلیف کوئی نہیں تھی
00:40:30پر تم تو نانہ ایسا کرتے
00:40:32تم تو اپنے تھے
00:40:33تم تو کلمہ گوھتے
00:40:35تم تو یہ ظلم نہ کرتے
00:40:37تم تو یہ حرکت نہ کرتے
00:40:39میں کہتا ہوں
00:40:39ٹھیڑی جاتے
00:40:40جانا نہیں دنیا سے
00:40:42اللہ کے حضور حاضر نہیں ہونا
00:40:44جب رسول اللہ قبر میں آئیں گے
00:40:46تو کیا جواب دوگے
00:40:47خدا رہا
00:40:48حضور نے فرمایا تھا
00:40:50گناہ روک نہیں سکتے
00:40:51تو دل میں ہی برا جان لو
00:40:52ذالک آتا فول ایمان
00:40:54یہ کمزور ایمان ہے
00:40:56کم از کم اتنی عد تک تو آ دو
00:40:57دشمن سے گلے تو ننم ملو
00:40:59خدا رہا سمجھے
00:41:01ہمارا پہلا تارو یہ ہے
00:41:03کہ ہم رسول اللہ کے غلام ہیں
00:41:04اقبال نے کہا تھا
00:41:06وطن کا بھوت نہ بنانا
00:41:08وطن کو بھوت نہ بنانا
00:41:09اقبال کرنے لگے
00:41:11ان تعدہ خداوں میں
00:41:12بڑا سب سے وطن ہے
00:41:13جو پیرہن اس کا ہے
00:41:15وہ مذہب کا کپن ہے
00:41:17اس لیے کہ بازو تیرا
00:41:19توحید کی قوت سے
00:41:20کمی ہے
00:41:21اسلام تیرا دیس ہے
00:41:23اسلام تیرا
00:41:25دیس ہے
00:41:26کیونکہ تُو مصطفی ہے
00:41:28تُو نبی پاک والا ہے
00:41:30مصطفی والا
00:41:31اسلام تیرا دیس ہے تُو
00:41:32مصطفی ہے
00:41:34امریکہ میں جو مسلمان رہتا ہے
00:41:36ہمارا بھائی ہے
00:41:37اور پاکستان میں جو مرضائی رہتا ہے
00:41:39اس سے ہمارا کوئی تعلق
00:41:41نہیں ہے
00:41:42حضرت عثمانِ گنی نے
00:41:44اپنے چچا کے بیٹے سے کہا تھا
00:41:46کہ تُو کلمہ نہیں پڑتا
00:41:47تو تیرا میرا رشتہ کوئی نہیں ہے
00:41:49بلال حبج سے آیا ہے
00:41:50پر میرے نبی کا غلام ہے
00:41:52تو سگے بانجوں سے بھی آگے ہیں
00:41:53ہزاروں قومیں وجود میں آئیں
00:41:56دہر میں خوشک و تر کے رشتے سے
00:41:58پر ہم نے بنیاد دوستی رکھی
00:42:00یاد خیر البشر کے رشتے سے
00:42:02اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
00:42:06خاص ہے ترکیب میں
00:42:08قوم رسولِ حاش
00:42:10کچھ خیال کریں
00:42:12پہلا تاروخ دین ہے
00:42:14اگر دین نہیں تو پھر کسی وطن کی کوئی ضرورت ہے
00:42:17اس لیے کہ پاکستان کا تصور اقبال نے پیش کیا نا
00:42:21تو اقبال کرنے لگے ان تارہا خداوں میں بڑا سب سے وطن ہے
00:42:25جس کو تم بط بنا کے پوچھتے ہو
00:42:27ہمارا وطن تو ہمیں جان سے زیادہ پیارا ہے
00:42:30پر پہلے پاکستان نہیں پہلے اسلام
00:42:33پہلے اسلام تیرا دیس ہے تُو
00:42:36مصطفی بھی ہے
00:42:37تو عام دام برس نے مطلب
00:42:39حضرتِ عمرِ فاروخ
00:42:40رضی اللہ تعالی عنہ
00:42:43حضرتِ سیدنا
00:42:44ابو موسیٰ شریح کہتے ہیں کہ میں نے نا
00:42:48صفائی کی
00:42:49مالِ غنیمت کی میں نے صفائی کی تو
00:42:53ایک دینار مجھے نا کہیں پڑا ہوا مل گیا
00:42:56تو فرماتے ہمیں اجازت ہوتی تھی
00:42:58کہ ایک دینار ہم اپنی مرضی سے کہیں خرچ کر
00:43:02تو حضرتِ عمر کے بیٹے گزر رہا تھا
00:43:05تو حضرتِ عمرِ عمرِ فاروخ
00:43:06کہتے ہیں میں نے صفائی کی تو ایک دینار نکلا
00:43:08تو میں نے وہ ایک دینار نا
00:43:11حضرت عمر کے بیٹے کو دے دیا
00:43:12میں نے کہا لو بیٹا اپنے چچا کی طرف سے توفہ
00:43:15وہ گھر جا کے انہوں نے حضرت عمر کو بتایا
00:43:18کہ یہ چچا نے پیسے دی ہیں
00:43:19چھوٹے بچے تھے
00:43:20حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ شریح کو بلا لیا
00:43:23اور بلا کے فرمانے لگے
00:43:25میں تو تمہیں اپنا دوست جانتا تھا
00:43:26اور تمہیں میری اولاد کو دنیا دار بنانا شروع کر دیا
00:43:29میرے بچوں کو ہی تمہیں دنیا دار پیسوں پہ لگانا شروع کر دیا
00:43:33میں تو تمہیں یار سمجھتا تھا
00:43:35فرمایا تمہیں چاہیے تھا میرے بیٹے کو نصیت کرتے
00:43:38کہ بیٹا پیسوں سے رابرازی نہیں ہوتا
00:43:41اس کی رضا والے کام کیے جائیں تو رابرازی ہوتا
00:43:43اور فرمایا تمہیں کوئی اور گھر نہیں ملا تھا
00:43:46تتباہ کرنے کے لیے میرا ہی گھر ملا تھا
00:43:48اٹھاؤ اپنا دنار اور خبردار
00:43:50آج کے بعد میرے بچوں کے ساتھ یہ والی نیکی نہ کرنا
00:43:54اور ہمارا کیا سٹیٹس ہے
00:43:55دوستی ہے یہ اس سے جتوہ زیادہ دے
00:43:57جو بچوں کو خراب کرنے میں مدد زیادہ کریں
00:44:01اس کے ساتھ جرام
00:44:02حضرت عمر نے گھار پہ اور سب سے بڑھ کر اپنی ذات پہ توجہ کی
00:44:06حضرت ابو مالک
00:44:07ددی اللہ تعالیٰ نے کہتے ہیں
00:44:09میں عمر کے پیچھے پیچھے ایک باغ میں گیا
00:44:11اکثر اس باغ میں جایا کرتے تھے
00:44:13اور عمر جا کے نا تو درخت کے نیچے بیٹھ گئے
00:44:15اور فرمانے لگے
00:44:16امیر المومنین
00:44:17اللہ سے ڈر جا
00:44:19ورنہ جس رب نے حکومت دی ہے وہ عذاب بھی بڑھا دے گا
00:44:24ڈر جا رب
00:44:25کبھی ساری زندگی حضرت عمر نے اپنا کوئی تعریف نہیں کرایا
00:44:29کبھی نہیں
00:44:30ایک منزے نے آپ کے سامنے تعریف کر دی
00:44:33آپ کی تو فرمانے لگے تو خود بھی ہلاک ہوا
00:44:35اور مجھے بھی ہلاک کر دی ہے
00:44:36کیا ضرورت پڑی ہے میری تعریفیں کرنے کی
00:44:39اتنی دیر میری تعریف میں لگائی
00:44:41اللہ کا ذکر کرتا رب تجھے سوال دیتا
00:44:43حضور پہ درود پڑتا
00:44:45تو رب تیرے اوپر رحمتیں نازل کرتا
00:44:47کس چکر میں
00:44:48آج اتنا اچھی کوئی خوش آمد کرے
00:44:51اتنی اچھی بزارت ملتی
00:44:52جتنی اچھی
00:44:54اس کو جو ہے وہ چاپ لوسی کرنی آیا
00:44:57درجہ بھی اسے اتنا ہی
00:44:58اچھا ملتا ہے حضرت عمر فاروق
00:45:00رضی اللہ تعالیٰ عنو
00:45:03آپ کے بیٹے کہتے ہیں
00:45:04صاحب فتوہ شام نے لکھا ہے
00:45:07آپ کے صاحب زادے کہتے ہیں
00:45:08میں نکلا تو میرے ابا جی نا
00:45:10اپنی پشت پر مشکیزہ رکھ کے
00:45:12کونے سے پانی بھر کے آ رہے
00:45:13میں دوڑ کے آگے کہ
00:45:15میں نے کہا ابا جی مجھے دے دے
00:45:16فرمانے لگے بیٹا تیرا کیا خیال ہے
00:45:18کوئی اور نہیں تھا
00:45:19مشکیزہ بھر کے لانے کے لیے
00:45:20تیرا کے خیال ہے
00:45:22کہا ابا جی بڑے لوگ تھے
00:45:24پر آپ کیوں اٹھا رہے
00:45:25فرمانے لگے
00:45:26نفس نا ذرا میرا بڑا ہو گیا تھا
00:45:28اسے ذرا ظلیل کر رہا ہوں
00:45:29ذرا اپنا معاصبہ کر رہا ہوں
00:45:32یہ مجھے کہہ رہا تھا
00:45:33تو بڑی چیز ہے
00:45:34تو میں نا
00:45:35ابھی مشکیزہ گھر رکھ کے آوں گا
00:45:37پھر تیری ماں نے مجھے کہا ہے
00:45:38کہ گھر میں لکڑیاں کوئی نہیں جلانے کے لیے
00:45:40پھر میں جنگل سے لکڑیاں کھاٹ کے لاؤں گا
00:45:42اب میں میر المومنین بن کے نا
00:45:45تو میرا نفس تھوڑا بڑا ہو گیا
00:45:47اب یقین تنے
00:45:48ہمارا عزمہ خراب ہو جاتا ہے
00:45:50جب تک ہمارا تاروح صحیح نہ ہو
00:45:52ہمارا تاروح ٹھیک نہ ہو
00:45:54میں یہ ہوتا ہوں
00:45:54میں وہ ہوتا ہوں
00:45:55چھوڑ
00:45:56مٹی دین تے مٹی رہنہیں
00:45:58مٹی دین تے
00:46:00مٹی دین تے مٹی رہنہیں
00:46:03اے بھی قادی بلے بلے
00:46:05آج مٹی دے
00:46:06اُتتے بندی آتے کل
00:46:08مٹی دے تھلے
00:46:09مٹی دین تے
00:46:10مٹی رہنہیں
00:46:12قادی بلے
00:46:12مجھے پوچھ لو
00:46:13مجھے جان لو
00:46:14میرا نام لے لو
00:46:15میں بھی آیا ہوں
00:46:16میں بھی ہوتا ہوں
00:46:17میرا بھی یہ تذکرہ ہے
00:46:18میں بدکار پرانا خادم
00:46:20کسے تر ملی لٹ ہوئی
00:46:22یہ تو بڑی باز کی بات ہے
00:46:28تو باز کی بات ہے صاحب
00:46:30ورنہ من نانم کے من نانم
00:46:32جو ہم ہیں اس کا ہمیں پتا تو ہے نا
00:46:34بھائی کبھی بھی
00:46:36یہ جو ذات کا چکر ہے نا
00:46:38میں بھی ہوں مجھے بھی
00:46:39او بھائی یاد رکھو
00:46:40میں کون ہوں
00:46:41یہ جو نام نمود
00:46:44اور یہ خواہش ہے
00:46:45اور یہ جو بقار
00:46:46یہ تو کمزور لوگوں کا طریقہ ہے
00:46:47جس کو اپنا تعرف کرانا پڑ گیا
00:46:50اس سے بھی زیادہ کمزور کوئی ہے
00:46:52فوٹ میں نکھاتا پھرتا ہے
00:46:53بھلانے کے ساتھ فوٹو بھلانے
00:46:55تو کمزور بندے یہ کام کے
00:46:57حضرت عمر فاروق
00:46:58اللہ وہ اکبر
00:47:00حضرت عمر جیسا بندہ
00:47:01چوبیس لاکھ مربع میل کا حکمران
00:47:04اور شاہ روم کو خط لکھ کے کہتا ہے
00:47:08میں منت نہیں کرتا میں حکم دیتا ہوں
00:47:10تو نہ تگڑا بندہ
00:47:11جنگ قادشیہ کے لئے
00:47:13حضرت صاحب بن نبی وقعز کو بھیجا
00:47:15فتوہ ہوئی شام پڑھ کے دیکھیں
00:47:16حضرت عمر بڑے پریشان ہے
00:47:18اتنے دن ہو گئے
00:47:19کوئی ریپورٹ ہی نہیں آئی
00:47:21آپ تو موبائل ہیں نا
00:47:22تو ایک منٹ کی ریپورٹ لیں آپ
00:47:24بلکہ آپ
00:47:25ایک منٹ کی فوٹو لیں آپ
00:47:27ریپورٹ تو دور رہ گئے
00:47:29حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی
00:47:31بڑے پریشان ہیں
00:47:32کہ قادشیہ میں
00:47:33حضرت صاحب بن نبی وقعز کے ساتھ
00:47:34لوگ جہاد کرنے گئے
00:47:35ریپورٹ کوئی نہیں آ رہا
00:47:37اتنے پریشان تھے
00:47:38کہ باہر نکل کے
00:47:39اس رستے میں بیٹھ جاتے
00:47:41جو رستہ قادشیہ کی طرف سے آتا تھا
00:47:44جو بھی آتا جاتا
00:47:45پوچھتے جنگ کے کیا حالات ہیں
00:47:47ادھر جب اللہ نے فتح دے دی
00:47:48تو حضرت صاحب بن نبی وقعز
00:47:50رضی اللہ تعالی
00:47:51انہوں نے ایک قاسد کو خط دے کے بھیجا
00:47:54کہنے لگے عمر کے پاس جاؤ
00:47:55انہیں اطلاع دو
00:47:57کہ الحمدللہ
00:47:58اللہ نے اسلام کو فتح عطا کر دی
00:47:59یہ حضرت عمر کو جا کے دینا
00:48:02وہ بڑے پریشان ہوں گے
00:48:03وہ جو اس زمانے میں اس طرح ہوتا تھا
00:48:06کہ کئی دور دور سے
00:48:07صحابات جو دوسرے شہروں کے
00:48:09ملکوں کے رہنے والے ہوتے تھے
00:48:10وہ بھی آکے شامل ہو جاتے تھے جہاد میں
00:48:12کوئی ایک دفعہ مدینہ آیا
00:48:14کوئی دو دفعہ آیا
00:48:15پھر اپنے اپنے علاقوں میں عباب
00:48:17بہت سارے لوگوں نے
00:48:18زیدہ دفعہ حضرت عمر کو دیکھا بھی نہیں تھا
00:48:21وہ جو قاسد خط لے کے آیا تھا
00:48:23اس نے ایک دفعہ دیکھا تھا
00:48:25حضرت عمر بڑے ہو گئے
00:48:26وہ پہچانتا نہیں تھا
00:48:28میری بات کی سمجھ آلیا ہے
00:48:29حضرت عمر
00:48:29ادھر سے وہ خط لے کے آگیا
00:48:32حضرت عمر مدینے سے باہر نکل کے
00:48:34اس روڑ پر بیٹھے تھے
00:48:35جو کانسی آتے آتا تھا
00:48:37جب وہ اس آدمی کو آتے دیکھا
00:48:39حضرت عمر اٹھ کے کھڑے ہو گئے
00:48:40فرمانے لگے
00:48:41کانسیہ سے آ رہے ہو
00:48:42وہ کیا کہتا ہے
00:48:44پٹے پرانے کپڑے
00:48:45ٹوٹے ہوئے جوتے
00:48:47سر پہ پرانی پگڑی
00:48:49کہنے لگے غلام
00:48:50مدینے کے رہنے والے ہو
00:48:52حضرت عمر کہنے لگے
00:48:54ہاں مدینے کا ہوں
00:48:55کہاں میں کانسیہ سے آیا ہوں
00:48:57الحمدللہ اللہ نے اسلام کو فتح دے دی ہے
00:48:59الحمدللہ کفر کی کمر ٹوٹ گئی ہے
00:49:03اس نے یہ بات کر کے
00:49:04تو گھوڑے کو ایڈی لگائی
00:49:05گھوڑا دوڑنے لگا
00:49:06مدینے کے
00:49:07حضرت عمر بھی ساتھ ساتھ دوڑ رہے ہیں
00:49:09فرمانے لگے
00:49:10اچھا بتاؤ خالد بن ولید کا کیا حال ہے
00:49:12تھوڑا آگے جا کے فرمانے لگے
00:49:14اسامہ بن زید کیسے
00:49:16وہ کہتا ہے ٹھیک ہے
00:49:17پھر اس نے اور گھوڑا دوڑا
00:49:18عمر ساتھ ساتھ دوڑ رہے ہیں
00:49:20ساتھ ساتھ
00:49:20چوبیس لاکھ مروپہ میل کا حکمران
00:49:23ایک جوتا پیر سے نکل گیا
00:49:26عمر دوڑ رہے ہیں
00:49:27آگے جا کے پوچھتے ہیں
00:49:29ساتھ بن ابی وقاص کا کیا حال ہے
00:49:31کہا حضور وہ بھی ٹھیک ہیں
00:49:32کتنے لوگ میرے شہید ہو گئے
00:49:34مسلمانوں میں سے
00:49:36کہنے لگا
00:49:37صحیح جنتی کا نہیں پتا
00:49:38یہ لفظ ادا ہوتے ہوتے
00:49:40مدینے کی سرہت آگئی
00:49:42لوگوں نے عمر کو گھوڑے کے ساتھ
00:49:44دوڑتے دیکھا
00:49:45تو کہا امیر المومنین کیوں دوڑ رہے ہیں
00:49:47وہ گلام چھلانگ لگا کے نیچے آیا
00:49:50کتموں میں بیٹھ گیا
00:49:51کنے لگا
00:49:52حضور آپ نے بتایا ہی نہیں
00:49:54آپ امیر المومنین ہیں
00:49:55آپ فرمانے لگے کیا بتاتا
00:49:57میں تو اور چرانے والے کا پتر ہوں
00:50:00کیا بتاتا
00:50:01وہ عمر ہوں جس نے اپنے گناہوں کا اصحاب دینا ہے
00:50:05کیا بتاتا
00:50:06جو ساتھ بن ابی وقاص کو جہاد میں بھیج کے
00:50:09خود بزدلوں کی طرح گھر میں بیٹھا ہے
00:50:11کیا بتاتا
00:50:12کوئی عیسیت نہیں
00:50:13کوئی طاق
00:50:14تو نے اچھا کیا
00:50:15تو تو مجاہد تھا
00:50:16مجھے ساتھ ساتھ دڑایا
00:50:18تو نے اچھا کیا
00:50:19جتنے لوگ تھے چیخیں مار کے رونے لگے
00:50:21حضرت فاروق عاظم سے کہنے لگے
00:50:23عمر جب تک تیرے جلوے رہیں گے
00:50:26اللہ کامیابیاں ہی عطا برمائے گا
00:50:28جب تک تیرا رنگ رہے گا
00:50:30اللہ تعالیٰ نوازتا ہی رہے گا
00:50:32کچھ نہیں کبھی اپنا ظاہر ہی نہیں کیا
00:50:35بہت بڑے تھے
00:50:36بہت بڑے تھے حضرت عمر بڑے تھے
00:50:38لیکن ساری زندگی
00:50:40اپنے محاضر
00:50:41حضرت ابو رافع غلام تھے
00:50:43قرآن پاک بڑا سونا پڑتے تھے
00:50:45حضرت عمر جب بھی انہیں ملتے
00:50:48کہتے ابو رافع تو عمر سے اچھا ہے
00:50:50قرآن بڑا شاندار پڑتا ہے
00:50:52تو وہ کہتے
00:50:53حضور اگر میں قرآن صحیح پڑتا ہوں
00:50:55تو آپ کو قرآن کی تشریح زیادہ صحیح آتی ہے
00:50:57آپ بھی تو مجھ سے افضل ہیں
00:50:58تو آپ فرماتے ہیں
00:50:59نہیں پھر بھی تو مجھ سے افضل ہے
00:51:01کیوں؟
00:51:02اس لیے کہ تو اپنے غلام
00:51:04اپنے آقا کی نوکری بھی ٹھیک کرتا ہے
00:51:07اور رب کی عبادت بھی ٹھیک کرتا ہے
00:51:08اور مجھے خالص صرف عبادت کر نہیں ہوتی ہے
00:51:11وہ بھی ٹھیک نہیں کر پا
00:51:12ساری زندگی اپنا معاصبہ
00:51:14ساری زندگی اپنے گریبان میں دیکھا
00:51:17ساری زندگی اپنے آپ کو پرکھا
00:51:20اپنے آپ کو ٹٹولا
00:51:22بسٹھ سال عمر بیت گئی
00:51:24حضرت حضافہ بن یمان ایک صحابی تھے
00:51:30میرے نبی کریم علیہ السلام
00:51:32نا ان سے راز کی باتیں کرتے تھے
00:51:34ہر بندے کا عظمہ ٹھیک نہیں ہوتا
00:51:36سب سے راز کی بات نہیں کرنی چاہیے
00:51:38حضرت حضافہ بن یمان کہتے ہیں
00:51:40حضور راز کی باتیں بتاتے ہیں
00:51:42مدینہ منورہ میں جو منافقین تھے
00:51:44ان کی لسٹ بھی نبی پاک نے
00:51:46حضرت حضافہ بن یمان کو دی دی
00:51:47جب کوئی مشکوک آدمی مر جاتا نہ
00:51:50تو صحابہ کہتے ہیں
00:51:53ہم دیکھتے ہیں
00:51:53اگر حضرت حضافہ نے جنازہ پڑھا ہے
00:51:55تو ہم بھی جنازہ پڑھ لیتے ہیں
00:51:56نبی پاک نے بھی کچھ جنازہ نہیں پڑھے
00:51:59پرمیزی میں ہے
00:52:00پرمایہ عثمان سے جو بغد رکھے
00:52:01اس کا جنازہ نہیں پڑھیں گے
00:52:03حضرت حضافہ بن یمان
00:52:05اگر جنازہ پڑھتے تو لوگ پڑھتے
00:52:07وہ نہ پڑھتے تو
00:52:08لوگ جنازہ نہ پڑھتے
00:52:09حضرت حضافہ بن یمان کہتے ہیں
00:52:11جناب عمر فاروق کی خلافت
00:52:13کے آخری اجام تھے
00:52:14کچھ دنوں کے بعد وہ شہید ہو گئے
00:52:16فرماتے ہیں
00:52:17آجی رات کا وقت تھا
00:52:19میں گھر میں سویا تھا
00:52:20بڑا بے فکر
00:52:21اچانک میرے دروازے پہ دستک ہوئی
00:52:24میں گھبرا کے اٹھا
00:52:26اتنی رات کو کون آیا
00:52:27اتنے قربان جاؤں
00:52:29دروازے پہ گیا
00:52:30تو امیر المومنین فاروق اعظم دروازے پہ
00:52:32میں نے کہا عمر کوئی حکم تھا
00:52:35تو مجھے بلا لیتے
00:52:36کہنے لگے میں نہ امیر بن کے نہیں آیا
00:52:38تیرا ویر بن کے آیا
00:52:39امیر المومنین کی
00:52:41اس رسیت سے سرکاری کام سے بلاتا
00:52:43تو وہاں بلاتا
00:52:44مجھے ایک ذاتی کام پڑ گیا
00:52:46کہتے ہیں میں نے عمر کو گھر کی اندر بلا کے
00:52:48چار پائی پہ بٹھایا
00:52:49میں نے کہا حضور میں غریب آدمی
00:52:51میں کیا آپ کے کام آ سکتا ہوں
00:52:53تو کہتے ہیں انہوں نے نہ مجھے ساتھ بٹھا لیا
00:52:55پھر میرا ہاتھ پکڑ لیا
00:52:57کہنے لگے تو عمر کو جانتا ہے
00:52:59عمر جھوٹ نہیں بولتا
00:53:00تو جانتا ہے
00:53:02عمر وعدوں کا پکا ہے
00:53:03کہا حضور جانتا ہوں
00:53:04کہا میں اس وقت آیا ہوں
00:53:06جب دیکھ بھی کوئی نہیں رہا
00:53:07حضرت اضافہ بن یمان کہتا ہے
00:53:09پریشان ہو گیا
00:53:10حضور پہ لیا
00:53:11نہ مجھوائے مہربانی کرے
00:53:12بتائیں کدھر آئے ہیں
00:53:14حضرت امرے فاروق فرمانے لگے
00:53:16باس سٹھ سال کا ہو گیا ہوں
00:53:18تریس سٹھ مچہ لگا ہے
00:53:20داڑی سفید ہو گئی ہے
00:53:22البک گیا
00:53:23اٹھ ریدہ ستیا
00:53:25داڑی آگیا ہی پور
00:53:27اگا نیڑے آگیا ہی
00:53:29پچھا رہ گیا ہی دور
00:53:31اب نہ
00:53:34کا معاملہ ساپ نظر آنے لگا ہے
00:53:37کہا حضور مجھ سے کیا چاہتے ہیں
00:53:39حضرت امر رو پڑے
00:53:41کہنے لگے
00:53:42آج میں عشاء کے بعد نکلا ہوں
00:53:44تو نبی پاک کے صحابہ
00:53:45مجھے نیک کہہ رہے تھے
00:53:47پھر میں نے بچوں کی ماں سے
00:53:49اور بچوں سے بھی پوچھا ہے
00:53:51وہ بھی مجھ سے راضی ہیں
00:53:52پر اضافہ
00:53:53تیرے ساتھ نبی پاک راز کی باتیں کرتے تھے
00:53:57سچ بتا
00:53:58کہیں عمر کا نام منافقوں میں شامل تو نہیں
00:54:01سچ بتا
00:54:03ان منافقین میں تو شامل نہیں
00:54:04کہیں اوپر اوپر سے تو نہیں سارا کچھ
00:54:06حضرت اضافہ بن یمان کہتا ہے
00:54:08میں باپ کے مرنے پہ اتنا نہیں رویا
00:54:10جتنا عمر کے سوال پہ رویا
00:54:12میں قدموں میں بیٹھ گیا
00:54:13میں نے کہا نہیں
00:54:14عمر یہ تو میں نے نہیں سنا
00:54:18لیکن یہ میں نے نبی پاک سے ضرور سنا ہے
00:54:20کہ میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا
00:54:22تو عمر ابن خطاب ہوتا
00:54:23یہ میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے
00:54:26کہ عمر جس گلی سے گزرے شیطان رستہ بدل جاتا ہے
00:54:29یہ میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے
00:54:31کہ ساڑھے نو سو سال
00:54:34حضرت جبریل جناب عمر کی شان بیان کرے
00:54:37تو پھر بھی بیان نہیں ہو سی
00:54:38یہ میں نے ضرور سنا
00:54:40دوستو
00:54:41ساری زندگی حضرت عمر میں
00:54:43اگر دوسروں کا معاصرہ کیا
00:54:45تو اپنا اور اپنے بچوں کا بھی کڑا خیال کرتا
00:54:48اپنی ذات پر بڑی توجہ دی
00:54:51جو لوگ اپنا بھول جاتے نا
00:54:54ہمیں اپنی صحت کا بڑا خیال ہے
00:54:56لیکن اپنی روحانی زندگی کا کوئی خیال نہیں ہے
00:55:00کل بھی زندگی کا کوئی تصور نہیں ہے
00:55:04آپ یقین کریں موٹا آدمی
00:55:05کمزور ہونے کے لئے جد و جات کا آدھا ہے
00:55:08کمزور طاقتور ہونے کے لئے
00:55:09لیکن جس کو کتنے دن بیٹھ گئے
00:55:12اللہ رسول کی یاد میں رویا ہی نہیں ہے
00:55:14کتنے دن بیٹھ گئے
00:55:16ناس سننے کو دلی نہیں چاہا
00:55:18جسے مہینوں بیٹھ گئے
00:55:20اور قرآن پاک کی طرف نظر ہی نہیں گئی
00:55:22وہ فکر مانتی نہیں
00:55:23زندگی زندہ دلی کا نام ہے
00:55:25مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں
00:55:28بھائی حضرت عمر کی زندگی
00:55:30دور حاضر میں
00:55:31ہمیں یہ سبق دیتی ہے
00:55:33کہ کڑی نگرانی رکھو اپنے پودوں کی
00:55:36کڑا خیال رکھو اپنے ذاتی بات کا
00:55:39اور یہ جو تمہارے دل کی دنیا ہے
00:55:41یہ تمہاری روح کی زندگی ہے
00:55:43اس کا محاسبہ کرتے رہو
00:55:45نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا
00:55:47اپنا اصحاب خود کر لو
00:55:48قبل اس کے کہ تمہارا اصحاب کیا جائے
00:55:50اپنا اصحاب
00:55:52ایک بات بڑی ضروری ہے
00:55:55وہ میں نے آپ سے ضرور کرنی ہے
00:55:56ایک آیت ہے قرآن پاک کی
00:55:58سورت بکرہ پہلا سپارہ آیت نمبر ایک سو بیس
00:56:01اللہ تعالی نے ایک حد بیان کر دی
00:56:03فرمایا
00:56:03فرمایا
00:56:09یہ یہودی اور عیسائی
00:56:11تم سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے
00:56:13یہ قرآن ہے
00:56:14اور سادہ ترجمہ تفسیر کی بھی ضرورت نہیں
00:56:17یہ محبت کے وعدے کر لیں
00:56:20یہ تم سے راضی نہیں ہوں گے
00:56:21کب راضی ہوں گے
00:56:22حتی تتابعہ ملتہم
00:56:24یہاں تک کہ تم ان کے دین کی پیروی کرنے لگ جاؤ
00:56:27میرا جب پہلی دفعہ پاسپورٹ بڑھنا
00:56:29تو میں نے سارا پڑھا
00:56:30کتابیں پڑھنے کا شوق تھا شروع سے
00:56:32اس کے ہر صفحے پہ لکھا ہے
00:56:34کہ سوائے اسرائیل کے
00:56:35یعنی آپ پوری دنیا میں
00:56:38یہ سبغ ہلالی پاسپورٹ لے کے جا سکتے ہیں
00:56:40خبردار
00:56:41اسرائیل آپ یہ پاسپورٹ لے کے نہیں جا سکتے
00:56:45یعنی اتنی نفرہ کسی ملک سے
00:56:47کہ اس پر لکھ کے چھاب دیا
00:56:49ہر صفحے پر
00:56:50کہ یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے
00:56:53ہر ملک کے لیے کارامد ہے
00:56:55میرا سوال ہے
00:56:56عرب کے ان لیڈروں سے جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کیا
00:56:59مجھے بتاؤ تمہیں فلسطین کی بیٹیاں بھول گئی نا ساری کی ساری
00:57:03تمہیں وہ ماں بھول گئی نا جو
00:57:05مسجد اکسہ کے دروازے پہ کھڑی ہو کے چیخیں مارتی تھی
00:57:09اور کہتی تھی کوئی علی کو خبر کرو کہ میری بچیاں قید میں
00:57:13بھول گئی
00:57:15تمہیں وہ بہن بھول گئی نا جس پر شراب کی بوتلوں ڈیڑھتے تھے
00:57:18اسرائیل کے فوجی
00:57:20وہ آپ کو ابھی بھی ویڈیو مل جائے گی
00:57:22وہ ڈیلتے تھے شراب کی بوتلوں سے پکڑتے تھے
00:57:25دست درازی کرتے تھے
00:57:27اور وہ بیٹی کہتی تھی
00:57:28یا رحمت اللہ العالم
00:57:30بھول گیا تمہیں وہ سارا کچھ
00:57:31تم نے ایک منٹ لگایا اور تم معاہدہ کس سے کروا رہے ہو
00:57:35امریکہ کے صدر سے
00:57:36اتنا ظلم کیا تم نے اتنا
00:57:38قاتل کے ساتھ معاہدہ
00:57:40کیا سمجھتے ہو فلسطین والوں کا کوئی والی بارس نہیں
00:57:43سنو میرے رسول کریم
00:57:45صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
00:57:47میرا کوئی مالدار امتی دنیا سے چلا جائے
00:57:50پیسے جائدہ دیں چھوڑ کے جائے
00:57:52تو اس کی اولاد میں باٹ دینا
00:57:54لیکن اگر اس کے ذمہ کرزہ ہو
00:57:56تو میرے پاس آ جانا
00:57:58میں اپنے امتی کا کرز ادا کروں گا
00:58:00جس کا کوئی بارس نہیں ہوتا
00:58:01مدینے والا اس کا بارس ہوتا ہے
00:58:03میں کرز دوں گا اپنے امتی کا
00:58:06کیا سمجھتے ہو فلسطینی لا بارس ہے
00:58:08صبح قیامت نبی پاک تم سے سوال کریں گے
00:58:11تمہیں اللہ کے حضور حاضری دینی ہے
00:58:13کیوں نہیں صلا کرتا اسرائیل فلسطین کے ساتھ
00:58:16لبنان کے ساتھ دوستی کیوں نہیں کرتا
00:58:18شام سارا کٹ گیا اسرائیل کی وجہ سے
00:58:21راج تمہیں خیال آیا
00:58:23ان کے ساتھ مواجدہ کرنے کا
00:58:25ہمیں سبق پڑھاتے ہو
00:58:26خدا سے ڈرو
00:58:28اور پھر اقبال کہتے ہیں مسلمانوں سے
00:58:30مایوس نہ ہونا
00:58:31حکمرانوں سے زیادہ امیدیں بھی نہ لگانا
00:58:33وہ جو چھوٹے چھوٹے لوگ نکلے تھے نا
00:58:35سہراہ سے بظاہر غریب تھے
00:58:37بظاہر ان کے پاس مال نہیں تھا
00:58:39وہ خالد بن ولید جیسے
00:58:40وہ ساتھ بن ابی وقعہ جیسے
00:58:42بظاہر ان کے پاس زیادہ اصلہ نہیں تھا
00:58:44اقبال کہنے لگے مایوس نہ ہونا
00:58:46یہ نہیں کہنا بن کچھ نہیں سکتا
00:58:48فرمانے لگے رات میں نے سنے
00:58:50فرشتے آپس میں باتیں کر رہے
00:58:52بہا اقبال تیرا بھی انداز کتنا نرالا ہے
00:58:56کہنے لگے رات فرشتے آپس میں باتیں کر رہے تھے
00:58:59میں نے سن لی ہے
00:59:00بھلا وہ کیا کہہ رہے تھے
00:59:02یہ سارے لوگ نا
00:59:03خالد بن ولید سعید بن ابی وقعہ
00:59:05یہ سہراہ کے رہنے والے
00:59:07اور اس وقت کی سب سے سوپر پاور رومہ کہلاتی تھے
00:59:10اُلٹ پُلٹ کے رکھ دی ساری رومی سلطنت
00:59:13تو اقبال کہنے لگے رات فرشتے آپس میں باتیں کر رہے تھے
00:59:16کہ سنے پاکستان کے اندوستان کے مسلمان جوان
00:59:20مایوس ہو گئے
00:59:21کہنے لگا نا مایوس ہونا
00:59:23نکل کے سہراہ سے
00:59:24جس نے رومہ کی سلطنت کو اُلٹ دیا تھا
00:59:28نکل کے سہراہ سے
00:59:30گرمی دیکھو اس شیر کی
00:59:32ولولہ دیکھو
00:59:33اس مرد کا جو مصبر پاکستان ہے
00:59:36نکل کے سہراہ سے
00:59:38جس نے رومہ کی سلطنت کو اُلٹ دیا تھا
00:59:42سنا ہے میں نے یہ قدسیوں سے
00:59:45وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا
00:59:47وہ کل باتیں کر رہے تھے
00:59:49کہ بہت سارے ان میں سے پھر جاگ گئے
00:59:51اور بڑی جلدی وہ بھلاک بنائیں گے
00:59:54سنا ہے میں نے یہ قدسیوں سے
00:59:57کہ وہ شیر پھر
00:59:58ہوشیار ہوگا
01:00:00وہ آئے گا میدان میں نکلے گا
01:00:02اور انشاءاللہ یہی چراغ جلے گا
01:00:04تو روشنی ہوگی
01:00:05مراج کی بات کرنے کا تو اب وقت آیا ہے
01:00:08اس لیے کہ مراج کا سارا واقعہ
01:00:10تو مسجد اقصہ کے گرد گھونتا ہے
01:00:12سبحان اللہ جی
01:00:14اسرہ بیعودہی لیل من المسجد الحرام
01:00:17الیل المسجد
01:00:18اقصہ
01:00:20حضور نے مراج کی رات
01:00:22مسجد اقصہ میں نماز پڑھائی تھی
01:00:24اور ایک بار پھر سے
01:00:27طیبہ سے فلسطین میں آ
01:00:28راستہ دیکھتی ہے
01:00:31پھر مسجد اقصہ دے رہا
01:00:33ایک بار غزور گئے تھے
01:00:35مکہ سے
01:00:36مسجد اقصہ
01:00:38اور پھر حضور فرماتے ہیں
01:00:40جب میں واپس گیا نا
01:00:42تو کفار نے جو کہ
01:00:44مسجد اقصہ دیکھی ہوئی تھی
01:00:46تو مجھ سے پوچھنا شروع کر دیا
01:00:47کہ
01:00:48مسجد اقصہ کی کھڑکیاں کتنی ہیں
01:00:51دروازے کتنے ہیں
01:00:52پلر کتنے ہیں
01:00:53جب انہوں نے سوال جواب کیے
01:00:55تو حضور فرماتے ہیں
01:00:57کہ رب کریم نے
01:00:58مسجد اقصہ کو اٹھا کے
01:00:59میرے سامنے رکھ دیا
01:01:00میں دیکھتا جاتا تھا
01:01:03بتاتا جاتا تھا
01:01:04کہہ لوں میں کہہ لوں
01:01:05بات کرلوں
01:01:05ایک دفعہ
01:01:07حضور مکہ سے
01:01:08مسجد اقصہ آئے
01:01:09اور ایک دفعہ
01:01:10مسجد اقصہ
01:01:11میرے نبی کی زیارت
01:01:13کے لیے مکہ گئی
01:01:14حضور کی زیارت
01:01:16کے لیے مکہ شریف گئی
01:01:18اوہ میرے نبی
01:01:19تو صرف کسی چیز کی طرف
01:01:20ایک دفعہ دیکھ لیں
01:01:22تو وہ رحمت کے پھول
01:01:24کھلتے ہیں
01:01:25مسجد اقصہ کی طرف
01:01:27مو کر کے
01:01:28سترہ مہینے
01:01:29میرے نبی نے
01:01:29نماز پڑھی ہے
01:01:30مسلمانوں پتہ ہی کوئی نہیں
01:01:33ہماری خبریں ہی آ رہے ہیں
01:01:35ہمارا درد ہی آ رہے ہیں
01:01:37ہمیں پتہ ہی نہیں
01:01:38بم کہاں پرس رہے ہیں
01:01:39ہمیں یہ خبر ہی نہیں
01:01:41اور میں اس دور میں
01:01:42تقریریں کر رہا ہوں
01:01:44جہاں سوتوں کو
01:01:44جگانا نہیں پڑتا
01:01:45جاگتوں کو
01:01:47جگانا پڑتا
01:01:47سیانے لوگوں کو
01:01:49سمجھانا ہمارے ذمہ
01:01:51لگ دیا
01:01:51کیا کرے
01:01:52اس قوم کو
01:01:53سکھانا پڑتا ہے
01:01:54اسے پتہ سارا ہے
01:01:55لیکن جہاں
01:01:56بوجھ کے آنکھیں
01:01:57ہماری باندھیں
01:01:58یہ مولوی کو
01:01:59بات کرتا
01:02:00تو لوگ
01:02:00کہتے دیکھو
01:02:01مولوی گالی دیتا ہے
01:02:02لیکن اگر
01:02:04قائد عظم
01:02:04محمد علی جنہ کہیں
01:02:06کہ اسرائیل
01:02:08امریکہ کی
01:02:09ناجائز ولاد ہے
01:02:10تو پھر تو
01:02:12تمہیں عظم کر لینا چاہیے
01:02:13پھر تو
01:02:14لیبرل کو بھی
01:02:15عظم ہونا چاہیے
01:02:16کہ قائد عظم نے کہا ہے
01:02:18اور اس
01:02:19ناجائز بچے کو
01:02:20تم نے اتنی طاقتیں دے دی
01:02:22کہ وہ
01:02:24مسلمانوں کے
01:02:26پڑھنے والوں کو بھی نہ بخشیں
01:02:28کہاں گئی تمہاری وہ
01:02:30انسانی حقوق کی
01:02:31بڑی بڑی تنظیمیں
01:02:32کدھر گئیں
01:02:34اور میرا پاکستانی میڈیا سے بھی
01:02:36سوال ہے
01:02:36چند دن پہلے
01:02:38سیالکورٹ میں ایک واقعہ ہوا
01:02:39نائنصافی ہو گئی
01:02:41جی نائنصافی ہو گئی
01:02:42جی ایک بی بی کے ساتھ
01:02:44ہر بندے نے شور مچایا
01:02:45بڑے بڑے طفان اٹھتے ہیں
01:02:48کیوں ہوا جی کیوں ہوا
01:02:50مسجد اقصہ کی
01:02:52تو ہین ہو گئی
01:02:53تو پھر طفان کیوں نہیں اٹھا
01:02:55تاکشو کیوں نہیں ہوئے
01:02:57بیسے کیوں نہیں ہوئی
01:02:59میں
01:02:59اس مومبتی مافیا کا کیا کروں
01:03:02ان لیبرل لوگوں کا کیا کروں
01:03:04ان کے سپورٹروں
01:03:05ووٹروں کا کیا کروں
01:03:07ان سیاسی جماعتوں کے کارکنوں
01:03:09کو کیا نام دوں
01:03:10کہ جو ان
01:03:12فضول بیسوں میں
01:03:13تو وقت ضائع کرتے ہیں
01:03:15اور وہ مسجد اقصہ
01:03:17اس کے بارے میں
01:03:19میرے نبی پاک
01:03:20صلی اللہ علیہ وسلم سے
01:03:22ایک صحابیہ نے پوچھا تھا
01:03:24یا رسول اللہ
01:03:25مسجد اقصہ میں نماز پڑھنا
01:03:27کتنا کو بہتر ہے
01:03:28باقی نمازوں کے مقابلے میں
01:03:30تو حضور نے فرمایا
01:03:31ہزار گناہ بہتر ہے
01:03:33بی بی عرص کرنے لگی
01:03:35سونے ہاں
01:03:36میں جاہا تو نہیں سکتی
01:03:37تیل بڑا کرتا ہے
01:03:39حضور نے فرمایا
01:03:41جاہا نہیں سکتی
01:03:41تو وہاں تیل ہی بھی جوا دے
01:03:43جس میں حاضری لگوانے کی
01:03:45حضور بات کریں
01:03:46جس مسجد بھی
01:03:47اور نبی پاک علیہ السلام نے فرمایا
01:03:49خاص کر کے سفر کرنا ہوا
01:03:51تو تین مسجدوں کے لیے کرنا
01:03:54ایک مسجد حرام بیت اللہ کے لیے
01:03:56ایک مسجد نبی کے لیے
01:03:58اور تیسرا مسجد اقصہ کے لیے
01:04:00اسلام علیکم ورحمت اللہ
01:04:02مبارکاتو جی
01:04:03اگر آپ علامہ پیر اجمال
01:04:04ازاق عدی صاحب کے بیانات
01:04:06سننا چاہتے ہیں
01:04:06ہمارے چینل کو سبسکرائب پر دیں
01:04:08ہم اس طرح کا بیانات
01:04:09اپلوڈ کرتے رہتے ہیں
01:04:10انشاءاللہ آپ کو ملتے رہیں گے
01:04:11ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں
01:04:12ہماری وڈے کو مکمل واشکر کریں
01:04:14انشاءاللہ آپ کو بہت زیادہ فدہ ہوگا جی
01:04:16بہت شکریہ جی
01:04:17اللہ حافظ
01:04:18اللہ حافظ
01:04:19اللہ حافظ

Recommended