- 1 year ago
Embark on a timeless journey through the captivating story of Hazrat Idrees (peace be upon him).
Join us as we unravel the life and teachings of this esteemed prophet, known for his wisdom, piety, and unwavering devotion to Allah.
In this enlightening video, discover the remarkable legacy of Hazrat Idrees, his steadfastness in the face of adversity, and the profound lessons embedded in his exemplary life.
Immerse yourself in the rich tapestry of Islamic history and spirituality as we delve into the profound insights and miracles attributed to this revered figure. ✨
Don't miss out on this enlightening journey! LIKE, SUBSCRIBE, and SHARE Al Mutahid Islamic to continue exploring the timeless wisdom of our faith.
Thank you for being a part of our community dedicated to spreading the light of knowledge and inspiration.
Join us as we unravel the life and teachings of this esteemed prophet, known for his wisdom, piety, and unwavering devotion to Allah.
In this enlightening video, discover the remarkable legacy of Hazrat Idrees, his steadfastness in the face of adversity, and the profound lessons embedded in his exemplary life.
Immerse yourself in the rich tapestry of Islamic history and spirituality as we delve into the profound insights and miracles attributed to this revered figure. ✨
Don't miss out on this enlightening journey! LIKE, SUBSCRIBE, and SHARE Al Mutahid Islamic to continue exploring the timeless wisdom of our faith.
Thank you for being a part of our community dedicated to spreading the light of knowledge and inspiration.
Category
🎵
MusicTranscript
00:00بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
00:02السَّلَامُ عَلَيْكُمْ
00:04حَبَّتِنُّ حَزْرَاتْ
00:05آج ہم ایک ایسے پیغمبر کی بات کریں گے
00:07جنہیں قرآنِ مجید میں
00:09سچا نبی کہا گیا ہے
00:11جنہوں نے اللہ کی خاطر ہجرت کی
00:13جو ہر قسم کی زبانوں کے ماہر تھے
00:15انہوں نے دینِ الٰہی کی
00:17تبلیغ کے ساتھ ساتھ
00:19سیاست اور شہری زندگی
00:21کے طریقوں کی تعلیم بھی دی
00:23ساتھ ساتھ انہوں نے قلم سے لکھنا
00:25اور کپڑے سینے کا طریقہ بھی ایجاد کیا
00:27وہ بے حد غور و فکر کرنے والے
00:29پیغمبر تھے جنہوں نے
00:31اپنی اقل و حکمت سے
00:33اسلحہ بھی ایجاد کیا
00:35اور ناب طول کے طریقے بھی
00:37لوگوں کو سکھائے
00:39انہوں نے اپنی امت کو یہ پیشین گوئی بھی کی
00:41کہ ان کی طرح بہت سی انبیاءِ قرآن
00:43تشریف لائیں گے
00:45جو سب کے سب پاک ہوں گے
00:47اور اللہ کے دین کو رائش کریں گے
00:49ہمارے غصے والے پیغمبر بھی تھے
00:51ان سچے اور اقل و زہانت والے
00:53پیغمبر کا نام
00:55حضرت عدریس علیہ السلام تھا
00:57آج کی اس ویڈیو میں
00:59ہم آپ کو بتائیں گے
01:01کہ حضرت عدریس علیہ السلام کا
01:03حضرت آدم علیہ السلام
01:05اور حضرت شریف علیہ السلام سے کیا رشتہ تھا
01:07اور حضرت عدریس علیہ السلام کے بعد
01:09کون سے نبی آئے
01:11انہوں نے کس کے خلاف جہاد کیا
01:13اور ان کی کیا کیا
01:15نمائع خصوصیات ہیں
01:17اس لئے گزارش ہے
01:19کہ ویڈیو کو آخر تک لازمی دیکھئے گا
01:21ناظرین اکرام
01:23حضرت آدم علیہ السلام
01:25اللہ کے پہلے پیغمبر تھے
01:27جو زمین پر انسانی بستیاں بسانے والے
01:29اولین فرد تھے
01:31اس لئے انھیں
01:33ابو البشر بھی کہا جاتا ہے
01:35جب حضرت آدم علیہ السلام
01:37جنت سے نکالے گئے
01:39تو ان کے ساتھ جنت سے
01:41ہر قسم کے بیج
01:43اور موسیٰ علیہ السلام کا
01:45بہت ترہاں کے بیج آئے تھے
01:47لیکن حضرت آدم علیہ السلام
01:49خطا کی ندامت شرمندگی
01:51اور توبہ کی فکر میں پریشان رہتے تھے
01:53ابلیس لعین نے
01:55اس موقع کو غنیمت جان کر
01:57اپنا ہاتھ ان بیجوں پر پھیرا
01:59جس بیج کو شیطان لعین
02:01کا ہاتھ لگا
02:03وہ بے فائدہ ہو گیا
02:05اور جو اس کے ہاتھ سے بچ گیا
02:07وہ فائدہ مند ہو گیا
02:09جب حضرت آدم علیہ السلام
02:11جنت سے اترے تو ارز کیا
02:13تحلیل اور تیری تقدیس
02:15بیان کرنے والا نظر نہیں آتا
02:17اور نہ ہی کوئی عبادت گاہ ہے
02:19پروردگار آلم
02:21نے جبرائیل علیہ السلام کو وہاں بھیجا
02:23بیت المامور کے برابر
02:25جہاں خانہ قابا ہے
02:27وہاں جبرائیل علیہ السلام
02:29نے اپنا پر مارا
02:31تو سادمی زمین کے نیچے سے اوپر تک
02:33بنیاد پڑ گئی
02:35جس کو فرشتوں نے
02:37بڑے بڑے پتھروں سے پور کیا
02:39وہ ایسے پتھر تھے
02:41یہ پتھر کوہے لبنان
02:43کوہے تور سینہ
02:45کوہے جودی اور کوہے ہرہ
02:47سے لائے گئے تھے
02:49اسی بنیاد پر بیت المامور کو نازل فرما
02:51کر ٹکایا گیا تھا
02:53تاکہ اس کے ارد گرد آدم علیہ السلام
02:55اور ان کی اولاد تواف کریں
02:57جب حضرت آدم علیہ السلام
02:59اور بی بی ہوا کی توبہ قبول ہو گئی
03:01تو انہیں اتمنان ہو گیا
03:03زندگی چین اور سکون
03:05سے بسر کرنے لگے
03:07تو بی بی ہوا کے بطن سے جوڑا جوڑا
03:09بچے پیدا ہونے لگے گئے
03:11حضرت آدم علیہ السلام
03:13اللہ تعالیٰ کے حکم سے
03:15جس بھائی کے ساتھ بہن پیدا ہوتی تھی
03:17دوسرے جوڑے سے اس کا نکاح کر دیتے تھے
03:19سب سے بڑے قابیل کے ساتھ
03:21جو لڑکی پیدا ہوئی
03:23اس کا نام اقلیمہ تھا
03:25وہ نہایت خوبصورت تھی
03:27اس لئے قابیل اس سے دستبردار ہونے
03:29کو تیار نہ ہوا
03:31حالانکہ قابیل اس لڑکی کا حقدار تھا
03:33حضرت آدم علیہ السلام
03:35اُنہیں اللہ کے حضور
03:37اپنی قربانیاں پیش کرنے کا حکم دیا
03:39کہ دونوں میں سے جس کی قربانی
03:41قبول ہوگی وہ اقلیمہ
03:43کو پا سکے گا
03:45قربانی کے قبول ہونے کی نشانی یہ تھی
03:47کہ اللہ کی طرف سے آگ آگ کر
03:49اس قربانی کو جلا جاتی
03:51جس سے پتہ چل جاتا تھا
03:53کہ بارگاہِ الہی میں قربانی کی قبولیت
03:55ہو گئی ہے
03:57چنانچہ بحکمِ خدا حابیل کی قربانی قبول ہوئی
03:59جس نے قابیل کو غزب
04:01نہ کر دیا
04:03اب وہ غصے سے مغلوب ہو کر
04:05حابیل سے کہا
04:07اب میں تجھے قتل کر دوں گا
04:09جیسا کہ قرآنِ قریب میں
04:11ارشادِ باری طالع ہے
04:13اور اے پیغمبر
04:15اُن کے سامنے آدم کے دو بیٹوں کا واقعہ
04:17ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناو
04:19جب دونوں نے ایک ایک قربانی پیش کی تھی
04:21اور اُن میں سے ایک قربانی قبول ہو گئی
04:23اور دوسری کی قبول نہ ہوئی
04:25اُس دوسرے نے پہلے سے کہا
04:27میں تجھے قتل کر ڈالوں گا
04:29پہلے نے کہا
04:33اگر تم نے مجھے قتل کرنے کو
04:35اپنا ہاتھ بڑھایا
04:37تب بھی میں تمہیں قتل کرنے کو اپنا ہاتھ
04:39نہیں بڑھاوں گا
04:41میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں
04:43میں تو یہ چاہتا ہوں کہ انجام کار
04:45تم اپنے اور میرے
04:47دونوں کے گناہ میں پکڑے جاؤ
04:49اور دوزخیوں میں شامل ہو
04:51اور یہی ظالموں کی سزا ہے
04:53آخر کار اُس کے نفس نے
04:55اُس کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر لیا
04:57لہذا اُس نے اپنے بھائی کو قتل کر ڈالا
04:59اور نامرادوں میں شامل ہو گیا
05:01کہتے ہیں کہ جنگل میں
05:03حابیل ایک پتھر پر سر رکھ کر
05:05سویا ہوا تھا
05:07کہ قابیل نے اوپر سے دوسرے پتھر سے مار کر
05:09شہید کر دیا
05:11لیکن قتل کرنے کے بعد
05:13اُس کی لاش کو چھپانے کا طریقہ نہیں جانتا تھا
05:15کیوں کہ اِس سے پہلے آدم علیہ السلام
05:17کی اولاد میں سے
05:19کوئی فوت نہیں ہوا تھا
05:21اِس لئے قابیل حیران اور پریشان تھا
05:23کہ اب کیا کریں
05:25پھر اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرما کر
05:27ایک کووے کو بھیجا
05:29بعض کہتے ہیں کہ دو کووے تھے
05:31ایک نے دوسرے کو مارا
05:33پھر زمین کرید کرید کر گڑھا بنایا
05:35پھر اُس میں اُس مردہ کو رکھا
05:37اور اُس پر مٹی ڈال دی
05:39جیسا کہ فرمانے باری تعالیٰ ہے
05:41پھر اللہ نے ایک کووہ بھیجا
05:43جو زمین کھودنے لگا
05:45تاکہ اُسے دکھائے
05:48یہ دیکھ کر وہ بولا
05:50ہائے افسوس
05:52کیا میں اِس کووے جیسا بھی نہ ہو سکا
05:54کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا
05:56اس طرح بعد میں وہ بڑا شرمندہ ہوا
05:59حدیث مبارکہ میں آتا ہے
06:01کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
06:05جب بھی کوئی انسان ظلم سے قتل کیا جائے
06:08تو آدم علیہ السلام کے سب سے پہلے بیٹے
06:11قابیل کے نام آمال میں بھی
06:13اُس قتل کا گناہ لکھا جاتا ہے
06:15کیونکہ قتلِ ناحق کی بنیاد
06:17سب سے پہلے اُس ہی نے قائم کی تھی
06:19حضرت آبیل کے شہید ہونے کے بعد
06:22حضرت آدم علیہ السلام غم زدا رہتے تھے
06:24کیونکہ یہ اُن کی نسل میں پہلا واقعہ تھا
06:27تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے
06:29اُن کو حضرت شریف علیہ السلام جیسا بیٹا
06:32اتا فرمایا
06:33تاکہ اُن کی نسل سے
06:35حضرت محمد ﷺ پیدا کیے جائیں
06:39حضرت شریف علیہ السلام پر کچھ صحیفیں بھی اُتریں
06:42حضرت آدم علیہ السلام نے وسیعت فرمائی تھی
06:45کہ حضرت نو علیہ السلام کا زمانہ پاؤ
06:48تو میرے جست کو کشتی نو میں رکھ دینا
06:51ورنہ اپنی اولاد کو نصیحت کر دینا
06:53محراج النبوت میں ہے
06:55کہ حضرت شریف علیہ السلام
06:57حضرت آدم علیہ السلام کی
06:59تمام اولاد سے زیادہ حسین اور خوبصورت تھے
07:02اور تمام ظاہری اور باطنی کا والاد سے پور تھے
07:05اور آپ کی پہشانی میں
07:07نور محمد ﷺ
07:09سورج کی طرح چمکتا تھا
07:11ان سے آدم علیہ السلام سے
07:13نور محمد ﷺ کی حفاظت کے بارے میں
07:17ایک اہد ناما تحریر کروایا تھا
07:20تاکہ نور محمد کو پاک رحموں
07:22اور پاک پشتوں میں پہنچایا جائے
07:25اس اہد نامے پر عمل کیا جائے
07:27اور اس اہد ناما کو ایک دوسرے تک پہنچایا جائے
07:30چنانچہ اسی طرح کیا گیا
07:32حابیل کی شہدت سے پانچ سال بعد ہی
07:35حضرت شریف علیہ السلام پیدا ہوئے تھے
07:38اور حسن و خوبصورتی
07:40حضرت شریف علیہ السلام کی
07:42حضرت آدم علیہ السلام کی مشابہ تھی
07:45حضرت آدم علیہ السلام نے قبل از وفات
07:47شریف علیہ السلام کو
07:49اپنا ولی اہد بنا دیا تھا
07:51حضرت شریف علیہ السلام حضرت آدم سے
07:54جنت کی خوبیاں ہمیشہ سنتے رہتے تھے
07:57اور آسمانی صحیفے کے مضمون
07:59بھی دریافت کرتے رہتے تھے
08:01اس لئے دنیاوی لذتیں
08:03اور لوگوں سے تنہائی اختیار کر لی تھی
08:06اکثر عبادت میں مشہول رہتے
08:08حضرت شریف علیہ السلام کے
08:10زمانے میں لوگ دو قسم کے تھے
08:12ایک حضرت شریف علیہ السلام کی
08:14تابداری میں تھے
08:16آپ کی نصیحت سے سیدھے راستے پر تھے
08:18اور دوسرا گروہ قابیل کی
08:20اولاد کی تابداری میں مشہول تھا
08:22حضرت شریف علیہ السلام کی نصیحتیں
08:24تھی کہ مومن حقیقی وہ ہوتا ہے
08:27جس میں یہ خسلتیں پائی جائیں
08:29جو خدا کو پہچانیں
08:31نیک اور بد کو پہچانیں
08:33بادشاہِ وقت کا حکم مانیں
08:35ماں باپ کا حق پہچانیں
08:37اور ان کے خدمت کریں
08:39ان کے ساتھ سیلا رحمی کریں
08:41اور لوگوں سے نیکی اور محبت کریں
08:43ہوسے کو زیادہ نہ بڑھائیں
08:45مہتاجوں اور مسکینوں کو کھانا کھیلائیں
08:47ان پر رحم کریں
08:49گناہوں سے پرہیز کرتا رہیں
08:51مسیبتوں پر سبر کریں
08:53اور نعمتِ الٰہی پر شکر کریں
08:55تفسیرِ عزیزی میں ہے
08:57کہ ان پر پچاس صحیفیں اترے تھے
08:59حضرت شیس علیہ السلام کا ذکر
09:01قرآن پاک میں کہیں نہیں
09:03بعض کتابوں میں آپ کی عمر
09:05نو سو بارہ سال بتائی گئی ہے
09:07حضرت ادریس علیہ السلام
09:09حضرت آدم علیہ السلام کی نسل میں سے تھے
09:11اور ان کے آباں میں
09:13حضرت شیس علیہ السلام بھی شامل تھے
09:15جن کے بعد نبوت
09:17حضرت ادریس علیہ السلام کو ملی
09:19آپ علیہ السلام
09:21حضرت شیس علیہ السلام کے بیٹے
09:23انوش کی نسل میں سے ہیں
09:25آپ کے والد کا نام یارد
09:27اور والدہ کا نام برکانہ تھا
09:29آپ کی بیوی کا نام آدنا تھا
09:31آپ کا ایک بیٹا بھی تھا
09:33جس کا نام متو شالکھ تھا
09:35ادریس علیہ السلام
09:37حضرت نو علیہ السلام کے پردادہ بھی ہیں
09:39آپ علیہ السلام کا
09:41اصل نام اخنوک یا ہنوک تھا
09:43آپ کا لقب ادریس ہے
09:45آپ کو یہ لقب
09:47اس لئے ملا کیونکہ دنیا میں
09:49آپ علیہ السلام نے سب سے پہلے
09:51لوگوں کو لکھنے پڑھنے کا درست دیا
09:53اسی بنا پر لوگ
09:55آپ علیہ السلام کو ادریس
09:57یعنی درست دینے والا
09:59کہہ کر پکارنے لگے
10:01آپ علیہ السلام کی ولادت
10:03عراب کے شہر بابل میں ہوئی
10:05قرآن مجید کی دو صورتوں میں
10:07آپ کا ذکر آیا ہے
10:09سورہ مریم کی آیت نمبر پشپن میں
10:11خدا نے آپ کو سچ نبی کہا ہے
10:13سورة الانبیاء آیت نمبر پچاسی
10:15اور چھاسی میں
10:17حضرت اسمائیل علیہ السلام
10:19اور ذوالکفل علیہ السلام کے ساتھ
10:21آپ کو بھی سبر والا
10:23ایک وقت کہا گیا ہے
10:25اور کتاب میں ادریس کو یاد کرو
10:27بے شک وہ بہت سچا نبی تھا
10:29جب حضرت شیس علیہ السلام
10:31کا انتقال ہوا
10:33تو کچھ عرصے بعد ان کے پیروکار
10:35بہت محدود تعداد میں رہ گئے
10:37قابیل کی ولاد نے کفر و شرق
10:39بدکاری اور بے ہیائی کا
10:41بازار گرم کر رکھا تھا
10:43زناکاری اور شراب نوشیام تھی
10:45پاکیزہ رشتوں کی پہچان
10:47ناپاید ہو چکی تھی
10:49بُتوں کی پوجا اور آگ کی پرستیش
10:51ہو رہی تھی
10:53گویا دنیا پر شیطان اور اس کے
10:55ہواریوں کا راج تھا
10:57حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت شیس علیہ
10:59السلام کی قائم کردہ شرعی حدود
11:01اور احکاماتِ الٰہی
11:03کو پامال کیا جا رہا تھا
11:05اور یہی وہ وقت تھا
11:07کہ جب اللہ تعالیٰ نے
11:09اس بگڑی قوم میں ایک نبی
11:11مابوز کرنے کا فیصلہ کیا
11:13اور اس عظیم منصب کے لئے
11:15حضرت شیس علیہ السلام کی نسل سے
11:17حضرت ادریس علیہ السلام
11:19حضرت ادریس علیہ السلام
11:21میں وہ تمام خوبیاں
11:23بدرجہ اتم موجود تھیں
11:25جو اللہ کے نبی میں ہونی چاہیئے
11:27آپ علیہ السلام حضرت آدم علیہ
11:29السلام کے دین کے پیروکار
11:31نہایت عبادت گزار
11:33متقی پرحیزگار
11:35اور انتہائی سچے انسان تھے
11:37ناظرین کرام نبوت
11:39کے منصب پر فائز ہوتے ہی
11:41آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کے
11:43بھٹکے ہوئے لوگوں میں
11:45واضع تبلیغ کا کام شروع کر دیا
11:47جس سے ایک چھوٹی سی جماعت
11:49مشرف با اسلام ہو گئی
11:51لیکن زیادہ تر لوگ حضرت شیس علیہ
11:53السلام اور حضرت آدم علیہ
11:55السلام کی تعلیمات کے مخالف ہی رہے
11:57راہِ ہدایت کا یہ درس
11:59اور نیکی کی باتیں
12:01ان لوگوں کو بہت ناغوار گزری
12:03چنانچہ وہ آپ علیہ السلام کے
12:05دشمن ہو گئے اور آپ علیہ السلام
12:07اور آپ کے پیروکاروں کو
12:09ترہا ترہا کی عذیتیں دینے لگے
12:11یہاں تک کہ آپ علیہ السلام
12:13نے ان کی عزارسانیوں سے تنگا کر
12:15بابل سے ہجرت کا ارادہ کر لیا
12:17اور اپنے پیروکاروں کو
12:19اپنے اس فیصلے سے متلے فرمایا
12:21چونکہ بابل دریائے فراد
12:23اور دریائے دجلہ کے کنارے
12:25ایک سرسب شاداب علاقہ تھا
12:27لہٰذا لوگوں کے لئے
12:29اس علاقے سے ہجرت کرنا خاصہ
12:31مشکل فیصلہ تھا اور
12:33انہوں نے اس حوالے سے تحفظات
12:35کا اظہار بھی کیا لیکن پھر
12:37حضرت ادریس کے سمجھانے پر وہ
12:39لوگ آپ علیہ السلام کے ساتھ
12:41ہجرت پر تیار ہو گئے
12:43حضرت ادریس علیہ السلام اور
12:45ان کے پیروکاروں نے بابل سے
12:47مصر کا رخ کیا اور دریائے
12:49نیل کے کنارے آباد ہو گئے
12:51جو بابل سے بھی زیادہ سرسبز
12:53اور شاداب علاقہ تھا
12:55حضرت ادریس علیہ السلام نے
12:57یہاں کے لوگوں میں درس و تبلیغ
12:59کے کام کو جاری رکھا
13:01آپ علیہ السلام اس وقت لوگوں میں
13:03رائج تمام زبانوں سے واقف تھے
13:05اور عوام کو انہی کی زبان میں
13:07درس دیتے تھے
13:09سورة الانبیاء میں اللہ تعالی نے فرمایا
13:11اور اسمائیل علیہ السلام اور
13:13ادریس علیہ السلام اور
13:15ذوالکفل کا تذکرہ کیجئے
13:17یہ سب احکام الہی پر ثابت
13:19قدم رہنے والے لوگوں میں سے تھے
13:21تفسیر معارف القرآن کے مطابق
13:23حضرت ادریس علیہ السلام
13:25حضرت نو علیہ السلام سے
13:27ایک ہزار سال پہلے پیدا ہوئے
13:29حضرت ادریس علیہ السلام
13:31وہ پہلے انسان ہیں
13:33جنہیں علم نجوم
13:35اور حساب بطور موجزہ
13:37آتا کیے گئے گئے
13:39نیز سب سے پہلے انہوں نے ہی قلم سے لکھنا
13:41اور کپڑا سینہ ایجاد کیا
13:43ان سے پہلے لوگ عموماً
13:45جانوروں کی کھال لباس کے طور پر
13:47استعمال کیا کرتے تھے
13:49پھر یہ کہ سب سے پہلے ناب طول کے طریقے
13:51بھی آپ علیہ السلام نے متعارف کروای
13:53اور اسلحہ بھی
13:55آپ علیہ السلام کی ایجاد ہے
13:57آپ علیہ السلام نے
13:59اسلحہ تیار کر کے بنو قابیل سے
14:01جہاد کیا
14:03اس نے اس حق کا کہنا ہے
14:05کہ دنیا کا سب سے پہلا شخص
14:07جس نے قلم سے لکھا
14:09حضرت ادریس علیہ السلام
14:11معاویہ بن حکم رضی اللہ تعالیٰ عنہوں سے
14:13مروی ہے کہ انہوں نے
14:15حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
14:17حریمل کے بارے میں سوال کیا
14:19یہ ایک ایسا علم ہے
14:21جس میں ریت پر مخصوص
14:23لکیریں کھینچ کر کچھ معلوم کیا جاتا ہے
14:25تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:27نے فرمایا
14:29ایک پیغمبر تھے
14:31انہوں نے یہ لکھا
14:33لہذا جس شخص کا خط ان کے موافق ہو جائے
14:35تو اچھا ہے
14:37علماء تفسیر فرماتے ہیں
14:39کہ پہلا شخص جس نے تبلیغ دین کے لئے
14:41واضح خطاب کا سلسلہ شروع کیا
14:43وہ حضرت ادریس علیہ السلام تھے
14:45چند بزرگان دین
14:47نے آپ کا حُلیا بیان کیا ہے
14:49جس کے مطابق آپ علیہ السلام
14:51کے عمدہ وصاف
14:53پورا قد و قامت
14:55خوبصورت خبرو گھنی داڑھی
14:57چوڑھے کندھے مضبوط ہڈیاں
14:59دُبلے پتلے
15:01سنجیدہ
15:03جن کی سُرمگیں چمکدار آنکھیں
15:05اور گفتگو باوقار تھی
15:07ان کی طبیت خاموشی پسند
15:09جبکہ وہ رستہ چلتے ہوئے
15:11نظر نیچے رکھتے تھے
15:13غصے میں غضبناک ہو کر بات کرتے ہوئے
15:15شہادت کی امگلی سے اشارہ کرنے کے عادی تھے
15:17اللہ تعالیٰ کے سامنے
15:19نظر و قربانی پیش کرنے کے لئے
15:21ان کے یہاں تین چیزیں اہمیت رکھتی تھیں
15:23خوشبوں کی دھونی
15:25موسم کی پہلی چیز کی نظر
15:27ضروری تھی
15:29اور میووں میں سیب کو
15:31آناج میں گہیوں کو
15:33اور پھولوں میں سے گلاب کو
15:35ترجیح حاصل تھی
15:37سیرِ روزت الاسغیہ
15:39کے مصنف تحریر کرتے ہیں
15:41کہ حضرت ادریس علیہ السلام
15:43قسرت سے
15:45اللہ تعالیٰ کی حمد و سنات
15:47اور عبادت میں مصروف رہتے تھے
15:49اور فرشتوں میں نہایت محبت
15:51اور عقیدت و احترام کی نظر
15:53سے دیکھے جاتے تھے
15:55فرشتے ان کے پاس آتے
15:57اور ان کی صحبت میں بیٹھا کرتے تھے
15:59چنانچہ ایک مرتبہ حضرت ازرائیل
16:01علیہ السلام بھی اللہ تعالیٰ سے
16:03اجازت لے کر آئے
16:05اور انسانی شکل میں بہت دیر تک
16:07ان کی صحبت میں حاضر رہے
16:09حضرت ادریس علیہ السلام کو جب معلوم ہوا
16:11کہ یہ کوئی انسان نہیں
16:13بلکہ حضرت ازرائیل علیہ السلام ہیں
16:15اور روح خبز کرنے کی خدمات
16:17پر مہمور ہیں
16:19حضرت ازرائیل علیہ السلام نے ان سے فرمایا
16:21کہ میرا دل چاہتا ہے
16:23کہ تم مجھے موت کا ذائقہ چھکھاؤ
16:25اس پر حضرت ازرائیل علیہ السلام نے
16:27اللہ کی اجازت سے ان کی روح نکالی
16:29اور پھر واپس کر دی
16:31اس کے بعد حضرت ادریس علیہ السلام
16:33نے ان سے فرمایا
16:35میرا دل چاہتا ہے کہ میں جنت اور دوزخ دیکھوں
16:37چنانچہ جب حضرت ازرائیل علیہ السلام
16:39نے اللہ سے اجازت لے کر
16:41انہیں دوزخ دکھائی
16:43دوزخ دیکھ کر جنت میں آئے
16:45اور بہت دیر تک وہاں کے مناظر دیکھتے رہے
16:47آخر حضرت ازرائیل علیہ السلام
16:49نے عرض کیا
16:51اب واپس تشریف لے چلیے
16:53مگر حضرت ادریس علیہ السلام
16:55نے جواب میں کہا
16:57جب تک جنت دوزخ کو پیدا کرنے والا
16:59مجھے یہاں سے جانے کا حکم نہیں دے گا
17:01اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا
17:03چنانچہ اللہ تعالیٰ نے
17:05ایک فرشتے کو مقرر فرمایا
17:07کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کر دے
17:13پھر حضرت ادریس علیہ السلام
17:15نے فرمایا
17:17میں قانون خداوندی کے مطابق
17:19موت کا ذائقہ چک چکا ہوں
17:21اور اب جنت میں آ گیا ہوں
17:23چونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
17:25ہم تم کو اس سے نہیں نکالیں گے
17:27لہذا میں یہاں سے نہیں جانا چاہتا
17:29حضرت قاب احبار کی روایت ہے
17:31کہ فرشتے نے
17:33اللہ تعالیٰ کے حکم سے فیصلہ کیا
17:35اچھا آپ علیہ السلام چھٹے آسمان
17:37پر رہیے اور فرشتوں
17:39کے ساتھ عبادت کیجئے
17:41اچھا حضرت ادریس علیہ السلام
17:43چھٹے آسمان پر فرشتوں کے ساتھ
17:45عبادت میں مشغول ہیں
17:47واللہ علم
17:49اس سلسلے میں متفق علیہ حدیث یہ ہے
17:51کہ حضرت ادریس علیہ السلام
17:53چوتھے آسمان پر ہیں
17:55مجاہد رحمتاللہ علیہ اور دیگر
17:57بہت سے علماء اکرام کا یہی کول ہے
17:59حضرت ظاہری رحمتاللہ علیہ نے
18:01بھی حضرت انس رضی اللہ
18:03تعالیٰ نہوں سے مروی
18:05میراج کی حدیث نکل کی ہے
18:07کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:09میراج کی رات چوتھے آسمان پر پہنچے
18:11تو وہاں آب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:13کی ملاقات
18:15حضرت ادریس علیہ السلام سے ہوئی
18:17جنہوں نے آب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:19کو دیکھ کر فرمایا
18:21مرحبا
18:23صالح بھائی اور صالح نبی
18:25ناظرین حضرت ادریس علیہ السلام
18:27کے زندگی میں دو چیزیں
18:29بہت نمائیاں ہیں
18:31ایک واز و تبلیغ اور دوسری آل
18:33قابل کے ساتھ جہاد
18:37کا حاصل تھا
18:39ان کی پہلی کوشش یہی رہی
18:41کہ واز و نصیحت سے آل قابل
18:43راہ راست پر آجائیں
18:45اور دنیا برائیوں سے پاک ہو کر
18:47ایک اللہ کی عبادت کرنے لگے
18:49لیکن شیطان نے ان لوگوں کو
18:51پوری طرح اپنی گریفت میں لے لیا تھا
18:53جب آپ علیہ السلام
18:55ان سے اللہ کی وعدانیت کی بات کرتے
18:57ایک اللہ کی عبادت کی نصیحت کرتے
18:59برائیوں کو چھوڑنے کی تلقین کرتے
19:01تو یہ باتیں ان لوگوں
19:03کو بہت ناغبار گزرتی
19:05اور وہ آگ بگولہ ہو کر
19:07انہیں عذیتیں دیتے
19:09تمسکر اڑاتے تھے پتھر مارتے تھے
19:11دراصل ایک طویل عرصے تک
19:13شیطان کے زیر اثر رہ کر
19:15یہ لوگ کفروشر
19:17اور برائیوں کی دلدل میں گردن
19:19تک دھنس چکے تھے
19:21دنیا واضح طور پر دو گروہوں میں
19:23تقسیم ہو چکی تھی
19:25ایک شیطان کے پیروکار
19:27اور دوسرے اللہ رب القائنات کے ماننے والے
19:29حضرت ادریس علیہ السلام
19:31حضرت حال پر بڑے دلگریفتہ
19:33اور پریشان رہ کرتے تھے
19:35آب علیہ السلام نے لاکھ کوشش کی
19:37کہ کسی طرح تبلیغ کے ذریعے
19:39ان لوگوں کو راہ راست پر لائے جا سکے
19:41لیکن جب کوئی صورت نظر
19:43نہ آئی تو انہوں نے
19:45اللہ کے حکم سے ان لوگوں کے خلاف جہاد
19:47کا فیصلہ کیا
19:49انہوں نے اللہ اور اس کے پیغمبر پر
19:51ایمان رکھنے والے نوجوانوں کی
19:53ایک جماعت کے ساتھ
19:55آلِ قابیل کے ساتھ جہاد کیا
19:57جس میں اللہ تعالیٰ نے انہیں قامیابی اتا فرمائی
19:59اور بہت سے لوگ دینِ حق
20:01کے جانب راقب ہو گئے
20:03حضرت ادریس علیہ السلام نے
20:05اپنی امت کو یہ بھی بتایا
20:07کہ میری طرح اس آلم کی دینی
20:09دنیاوی اصلاح کے لئے
20:11بہت سے انبیاء اکرام تشریف لائیں گے
20:13اور ان کی نمائیں خصوصیات
20:15یہ ہوں گی
20:17وہ ہر بری بات سے بری اور پاک ہوں گے
20:19قابل ستائش اور فضائل میں قامل ہوں گے
20:21زمین و آسمان
20:23کے احوال سے
20:27اور ان امور سے
20:29جن میں قائنات کے لئے شفا ہے
20:31یا مرض
20:33وہیِ الہی کے ذریعے
20:35اس سے واقف ہوں گے
20:37کہ کوئی سوالی خالی ہاتھ نہ رہے گا
20:39وہ مستجابت دعوات ہوں گے
20:41اور ان کے مذہب کے دعوت
20:43کا خلاصہ
20:45اسلاحِ قائنات ہوگا
20:47بلال بن سیار کہتے ہیں
20:49کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ نہوں نے
20:51حضرت قاب سے پوچھا
20:53کہ قرآنِ پاک کی اس آیت
20:55ہم نے ان کو اونچی جگہ
20:57اٹھا لیا کا کیا مطلب ہے
20:59تو حضرت قاب رضی اللہ تعالیٰ
21:01نہوں نے فرمایا
21:03اللہ تعالیٰ نے جب حضرت عدریس علیہ السلام
21:05کی طرف وہی بھیجی
21:07کہ میں تمہیں ہر روز تمام بنی آدم
21:09کے عمال کے برابر درجات دیتا ہوں
21:11اس سے مراد
21:13اس زمانے کے تمام بنی آدم ہیں
21:15تو حضرت عدریس علیہ السلام نے چاہا
21:17کہ پھر تو عمال میں اور اضافہ ہونا چاہیے
21:19لہذا جب ان کے پاس فرشتے آئے
21:21تو انہوں نے وحی کا ذکر کرتے ہوئے کہا
21:23میں چاہتا ہوں
21:25کہ ملک الموت سے بات کروں
21:27اور پوچھوں کہ کب تک میری زندگی باقی ہے
21:29فرشتے نے حضرت عدریس علیہ السلام
21:31کو اپنے پروں پر اٹھا لیا
21:33اور انہیں لے کر آسمان کی طرف
21:35بلند ہو گیا
21:37جب وہ چوتھے آسمان پر پہنچے
21:39تو ان کی ملک الموت سے ملاقات ہو گئی
21:41جو نیچے اتر رہے تھے
21:43حضرت عدریس علیہ السلام کے دوست فرشتے
21:45نے ملک الموت سے
21:47ملک الموت سے
21:49ملک الموت سے
21:51ملک الموت سے
21:53ملک الموت سے
21:55ملک الموت سے
21:57ملک الموت سے
21:59ملک الموت سے
22:01ملک الموت سے
22:03ملک الموت سے
22:05ملک الموت سے
22:07ملک الموت سے
22:09ملک الموت سے
22:11ملک الموت سے
22:13ملک الموت سے
22:15ملک الموت سے
22:17ملک الموت سے
22:19ملک الموت سے
22:21ملک الموت سے
22:23ملک الموت سے
22:25ملک الموت سے
22:27ملک الموت سے
22:29ملک الموت سے
22:31ملک الموت سے
22:33ملک الموت سے
22:35ملک الموت سے
22:37ملک الموت سے
22:39ملک الموت سے
22:41ملک الموت سے
22:43ملک الموت سے
22:45ملک الموت سے
22:47ملک الموت سے
22:49ملک الموت سے
22:51ملک الموت سے
22:53ملک الموت سے
22:55ملک الموت سے
22:57ملک الموت سے
22:59ملک الموت سے
23:01ملک الموت سے
23:03ملک الموت سے
23:05ملک الموت سے
23:07ملک الموت سے
23:09ملک الموت سے
23:11ملک الموت سے
23:13ملک الموت سے
23:15ملک الموت سے
23:17ملک الموت سے
23:19ملک الموت سے
23:21ملک الموت سے
23:23ملک الموت سے
23:25ملک الموت سے
23:27ملک الموت سے
23:29ملک الموت سے
23:31ملک الموت سے
23:33ملک الموت سے
23:35ملک الموت سے
23:37ملک الموت سے
23:39ملک الموت سے
23:41ملک الموت سے
23:43ملک الموت سے
23:45ملک الموت سے
23:47ملک الموت سے
23:49ملک الموت سے
23:51ملک الموت سے
23:53ملک الموت سے
23:55ملک الموت سے
23:57ملک الموت سے
23:59ملک الموت سے
24:01ملک الموت سے
24:03ملک الموت سے
24:05ملک الموت سے
24:07ملک الموت سے
24:09ملک الموت سے
24:11ملک الموت سے
24:13ملک الموت سے
24:15ملک الموت سے
24:17ملک الموت سے
24:19ملک الموت سے
24:21ملک الموت سے
24:23ملک الموت سے
24:25ملک الموت سے
24:27ملک الموت سے
24:29ملک الموت سے
24:31ملک الموت سے
24:33ملک الموت سے
24:35ملک الموت سے
24:37ملک الموت سے
24:39ملک الموت سے
24:41ملک الموت سے
24:43ملک الموت سے
24:45ملک الموت سے
24:47ملک الموت سے
24:49ملک الموت سے
24:51ملک الموت سے
24:53ملک الموت سے
24:55ملک الموت سے
24:57ملک الموت سے
24:59ملک الموت سے
25:01ملک الموت سے
25:03ملک الموت سے
25:05ملک الموت سے
25:07ملک الموت سے
25:09ملک الموت سے
25:11ملک الموت سے
25:13ملک الموت سے
25:15ملک الموت سے
25:17ملک الموت سے
25:19ملک الموت سے
25:21ملک الموت سے
25:23ملک الموت سے
25:25ملک الموت سے
25:27ملک الموت سے
25:29ملک الموت سے
25:31ملک الموت سے
25:33ملک الموت سے
25:35ملک الموت سے
25:37ملک الموت سے
25:39ملک الموت سے
25:41ملک الموت سے
25:43ملک الموت سے
25:45ملک الموت سے
25:47ملک الموت سے
25:49ملک الموت سے
25:51ملک الموت سے
25:53ملک الموت سے
25:55ملک الموت سے
25:57ملک الموت سے
25:59ملک الموت سے
26:01ملک الموت سے
26:03ملک الموت سے
26:05ملک الموت سے
26:07ملک الموت سے
26:09ملک الموت سے
26:11ملک الموت سے
26:13ملک الموت سے
26:15ملک الموت سے
26:17ملک الموت سے
26:19ملک الموت سے
26:21ملک الموت سے
26:23ملک الموت سے
26:25ملک الموت سے
26:27ملک الموت سے
26:29ملک الموت سے
26:31ملک الموت سے
26:33ملک الموت سے
26:35ملک الموت سے
26:37ملک الموت سے
26:39ملک الموت سے
26:41ملک الموت سے
26:43ملک الموت سے
26:45ملک الموت سے
26:47ملک الموت سے
26:49ملک الموت سے
26:51ملک الموت سے
26:53ملک الموت سے
26:55ملک الموت سے
26:57ملک الموت سے
26:59ملک الموت سے
27:01ملک الموت سے
27:03ملک الموت سے
27:05ملک الموت سے
27:07ملک الموت سے
27:09ملک الموت سے
27:11ملک الموت سے
27:13ملک الموت سے
27:15ملک الموت سے
27:17ملک الموت سے
27:19ملک الموت سے
27:21ملک الموت سے
27:23ملک الموت سے
27:25ملک الموت سے
27:27ملک الموت سے
27:29ملک الموت سے
27:31ملک الموت سے
27:33ملک الموت سے
27:35ملک الموت سے
27:37ملک الموت سے
27:39ملک الموت سے
27:41ملک الموت سے
27:43ملک الموت سے
27:45ملک الموت سے
27:47ملک الموت سے
27:49ملک الموت سے
27:51ملک الموت سے
27:53ملک الموت سے
27:55ملک الموت سے
27:57ملک الموت سے
27:59ملک الموت سے
28:01ملک الموت سے
28:03ملک الموت سے
28:05ملک الموت سے
28:07ملک الموت سے
28:09ملک الموت سے
28:11ملک الموت سے
28:13ملک الموت سے
28:15ملک الموت سے
28:17ملک الموت سے
28:19ملک الموت سے
28:21ملک الموت سے
28:23ملک الموت سے
28:25ملک الموت سے
28:27ملک الموت سے
28:29ملک الموت سے
28:31ملک الموت سے
28:33ملک الموت سے
28:35ملک الموت سے
28:37ملک الموت سے
28:39ملک الموت سے
28:41ملک الموت سے
28:43ملک الموت سے
28:45ملک الموت سے
28:47ملک الموت سے
28:49ملک الموت سے
28:51ملک الموت سے
28:53ملک الموت سے
28:55ملک الموت سے
28:57ملک الموت سے
28:59ملک الموت سے
29:01ملک الموت سے
29:03ملک الموت سے
29:05ملک الموت سے
29:07ملک الموت سے
29:09ملک الموت سے
29:11ملک الموت سے
29:13ملک الموت سے
29:15ملک الموت سے
29:17ملک الموت سے
29:19ملک الموت سے
29:21ملک الموت سے
29:23ملک الموت سے
29:25ملک الموت سے
29:27ملک الموت سے
29:29ملک الموت سے
29:31ملک الموت سے
29:33ملک الموت سے
29:35ملک الموت سے
29:37ملک الموت سے
29:39ملک الموت سے
29:41ملک الموت سے
29:43ملک الموت سے
29:45ملک الموت سے
29:47ملک الموت سے
29:49ملک الموت سے
29:51ملک الموت سے
29:53ملک الموت سے
29:55ملک الموت سے
29:57ملک الموت سے
29:59ملک الموت سے
30:01ملک الموت سے
30:03ملک الموت سے
30:05ملک الموت سے
30:07ملک الموت سے
30:09ملک الموت سے
30:11ملک الموت سے
30:13ملک الموت سے
30:15ملک الموت سے
30:17ملک الموت سے
30:19ملک الموت سے
30:21ملک الموت سے
30:23ملک الموت سے
30:25ملک الموت سے
30:27ملک الموت سے
30:29ملک الموت سے
30:31ملک الموت سے
30:33ملک الموت سے
30:35ملک الموت سے
30:37ملک الموت سے
Be the first to comment