"" نعت شریف ""
حضرت خلیلُ الله کو دیکھا گلزاروں کے جُھرمٹ میں -
اور حضرت یُوسف کو دیکھا خریداروں کے جُھرمٹ میں -
تو مُحمد مصطفیٰ کو دیکھا گنہگاروں کے جُھرمٹ میں -
تو وہ میری ہر خطاء معاف کرتے رہے -
حضُور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شایان شان ایک ایسی شان ہے -
وہ سب کی ہر خطاء معاف کرتے رہے ₋
جی ہر جرم ہر سزا معاف کرتے رہے - وہ میری ہر خطاء معاف کرتے رہے ₋
اور میرے پلے ہی کیا تھا گناہ کے سوا - میرے پلے ہی کیا تھا گناہ کے سوا ₋
شافاء روزِ جزاء معاف کرتے رہے ₋ شافاء روزِ جزاء معاف کرتے رہے ₋
مانا کے بے عمل ہُوں ۔ مانا کے بے عمل ہُوں " یا رسُول اللہ "
مانا کے بے عمل ہُوں ۔ نہا ئت بُرا ہُوں میں ۔ شا فاء روزِ جزاء معاف کرتے رہے ۔
اُن کی شا نِ کریمی ھے بے انتہا ۔ وہ خطاء پر خطاء معاف کرتے رہے ۔۔
___________________________________________________________
حضرت آد م ؑ کو دیکھا ""
حضرت آد م ؑ نے تو خُدا سے خلافت خرید لی ۔
مَلکوں نے سر جُھکا یا تو عزت خرید لی ۔
شیطا ن جَل گیا تو لعنت خرید لی ۔
اِن سب نے اپنی اپنی حقیقت خرید لی ۔
تو مُحمد مُصطفٗیؐ نے گُنہگاروں کی شفعاعت خرید لی ۔
گُنہگاروں نہ گھبراوَ۔ عدالت اُن کے گھر کی ہے ۔
شرافت اُن کے گھر کی ہے ۔ صداقت اُن کے گھر کی ہے ۔
نبوت اُن کے گھر کی ہے ۔ شہاد ت اُن کے گھر کی ہے ۔
حقیقت میں خُدا اُن کا ہے ۔ خُدائ اُن کے گھر کی ہے ۔
بُروں کو بخشواء لینا یہ عاد ت اُن کے گھر کی ہے ۔
تو اُن کی شا نِ کریمی ھے بے انتہا ۔ وہ خطاء پر خطاء معاف کرتے رہے ۔۔
_____________________________________________________
آخری شعر عرض ہے ۔
مہ کشی کی پُرا نی تھی عادت مُجھے ۔ مہ کشی کی پُرا نی تھی عادت مُجھے ۔
اپنی نظروں سے مجھ کو پلا تے رہے ۔
میں صدقے تیرے ساغر توں ۔ کوئی بولے جس نے نئی پیتی ۔
اے وکھری گل اے ۔ کییا ں نے پیتی تے قد ر نہ کیتی -
جِنے نال یقین دے نیتی ۔ اونے فر قضاء نئی کیتی ۔
اور جِنے آدھ وِچ کار اے توڑ دیتی ۔ اونے نیتی جَئ نا نیتی ۔
جس نال نظر دے پیتی ۔ میرے داتا نال نظر دے پیتی ۔
میرے خواجہ نال نظر دے پیتی ۔ بابا پیر شاہ نال نظر دے پیتی ۔
اوناں نے اے گل کیتی ۔ لوکی اے ہی طعنہ د یندے کے ایدے اندر با ر پلیتی -
چُو ٹھا عا شق بن بن بیندا ۔ ا ینے کدی نماذ نہ نیتی ۔
نہ کدی ویکھیا سجدہ کردا ۔ او نہ وڑیا کدی مسیتی -
اعظم او قسم نما ز والے دی ۔ میں تے کدی قضاء نئی کیتی ۔
او جِناں نے نا ل ذِ کر پکا یا ۔ دید اوناں نے کیتی ۔
دَ م دَ م نال ہزار نمازاں - خُوب اوناں نے نیتی -
آب حیات توں وضُو کیتا - ہو گئ دُور پلیتی -
مُرشد دے او حق باہُو دے مہ خا نے وِچوں اصغر جس نے پیتی -
اے وکھری گل اے کییاں نے پیتی تے قد ر نہ کیتی -
جس نال نظر دے پیتی او ناں نے اے گل کیتی --
مہ کشی کی پُرا نی تھی عادت مُجھے ۔ اپنی نظروں سے مجھ کو پلا تے رہے ۔
وہ میری ہر خطاء معاف کرتے رہے ---
_______________________________________________
Comments